اسلام آباد مذاکرات: آج وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں کام معطل رہے گا

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

اسلام آباد میں ریڈ زون کی بندش کے باعث آج (21 اپریل) کو وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی سرگرمیاں معطل رہیں گی اور سماعتیں نہیں ہوں گی۔

وفاقی آئینی عدالت کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس کی ہدایت پر ایک روزہ عدالتی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت 21 اپریل کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے اور کسی بھی مقدمے کی سماعت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

میڈیا رپورٹ کے مطابق ریڈ زون میں سیکیورٹی صورتحال اور بندش کے باعث شہریوں اور وکلا کی آمد و رفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر عدالتوں نے احتیاطی طور پر کام معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی عملہ گھروں سے اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا جبکہ عدالتی افسران اپنی تعیناتیوں پر موجود رہیں گے۔ تاہم برانچ رجسٹریاں عدالتی و انتظامی امور کے لیے کھلی رہیں گی۔

دوسری جانب رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق ریڈ زون کی بندش کے باعث عدالت عالیہ کو بھی 21 اپریل کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیواسلام آباد مذاکرات: پاکستان پُرامید، تہران کا مثبت غور، جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب

تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی

ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، ملکی معاشی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ

چینی خاتون اپنے 60 ہزار پالتو زہریلے سانپوں کے ذریعے کتنا کما لیتی ہیں؟

ڈائریکٹر ایف بی آئی کا دی اٹلانٹک کے خلاف 25 کروڑ ڈالر کا ہتکِ عزت مقدمہ

ویڈیو

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟