آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمی انتہائی محدود ہو گئی ہے اور گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی ترسیل کے اس اہم راستے پر غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس عرصے میں صرف ایک ٹینکر ’نیرو‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج عرب سے باہر نکلا ہے جبکہ 2 جہاز اندر داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹینکر برطانوی پابندیوں کی زد میں ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز ’شجاع 2‘ امریکی اعلان کردہ ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مستقل بنیادوں پر آبنائے ہرمز کھولنے پر چین مجھ سے خوش ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بندر عباس کے قریب شہید رجائی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور بھارت کی بندرگاہ کاندلہ کی طرف جا رہا ہے۔
اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم میری ٹائم ٹریکنگ سروس ’میرین ٹریفک‘ کے ڈیٹا کے مطابق جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود ہے اور بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں محدود سمندری ٹریفک اور کشیدہ صورتحال نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔













