2 سال کی عمر سے پہلے کم چینی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2 سال کی عمر سے پہلے بچوں کی خوراک میں چینی کی مقدار محدود رکھنے سے بڑھاپے میں دماغی صحت بہتر رہ سکتی ہے اور ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری) کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زبردستی نہیں ٹیکنیک استعمال کریں: بچے سبزیاں نہیں کھاتے تو یہ مؤثر طریقے اپنائیں

یہ تحقیق برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ستمبر 1953 میں چینی کی راشن بندی ختم ہونے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی۔ راشن بندی ختم ہونے کے فوراً بعد لوگوں کی روزانہ چینی کی اوسط کھپت تقریباً 41 گرام سے بڑھ کر 80 گرام ہو گئی جس سے محققین کو مختلف نسلوں کی صحت کا موازنہ کرنے کا موقع ملا۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے برطانیہ بائیو بینک منصوبے میں شامل تقریباً 65 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

تحقیق کے مطابق وہ افراد جو اپنی زندگی کے ابتدائی 2 برس چینی کی راشن بندی کے دوران گزار رہے تھے ان میں بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ 23 فیصد کم پایا گیا جبکہ اگر بیماری ہوئی بھی تو اس کی تشخیص اوسطاً ڈھائی سال بعد ہوئی۔

تحقیق کی سربراہ جیاژین ژینگ کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں چینی کی مقدار محدود رکھنے سے دماغی صحت پر طویل المدتی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم یہ جاننے کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے کہ آیا اس فرق کی اصل وجہ واقعی چینی ہی ہے۔

مزید پڑھیے: بلوغت جیسے موضوعات پر بچوں کو کھل کر گائیڈ کریں، معروف ماڈل ونیزہ کا والدین کو مشورہ

یہ تحقیق طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: صرف وزن کم کرنا ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں، ماہرین کا انتباہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم چینی کھانا براہِ راست ڈیمنشیا سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آزاد تحقیقی ادارے کوکرین سے وابستہ ماہر ریچل رچرڈسن کے مطابق تحقیق دلچسپ ضرور ہے لیکن اسے حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ محققین یہ معلوم نہیں کر سکے کہ ہر شخص نے حقیقت میں کتنی چینی استعمال کی تھی۔

اسی طرح ایسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ایان میڈمنٹ کا کہنا ہے کہ 80 سال پہلے کے حالات کو موجودہ دور کی صحت سے براہِ راست جوڑنا آسان نہیں، کیونکہ اس دوران بے شمار دیگر عوامل بھی صحت پر اثر انداز ہوئے ہوں گے۔

دوسری جانب الزائمرز ریسرچ یو کے سے وابستہ ڈاکٹر سارا روڈریگز نے کہا کہ اگرچہ یہ تحقیق اہم اشارے فراہم کرتی ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم چینی کھانے سے ڈیمنشیا کو یقینی طور پر روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر سارا کے مطابق متوازن اور صحت بخش غذا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

زندگی کے ابتدائی برسوں میں خوراک کی اہمیت پر اس سے پہلے بھی متعدد تحقیقات سامنے آ چکی ہیں۔ محققین کے مطابق بچوں کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن، یعنی حمل کے آغاز سے تقریباً 2 سال کی عمر تک کا عرصہ جسم اور دماغ کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اسی دوران اپنائی جانے والی غذائی عادات مستقبل میں صحت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

محققین نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں برطانیہ میں چینی کی راشن بندی ختم ہونے کے بعد بڑھنے والی چینی کی کھپت کو بعد کی زندگی میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) کے زیادہ خطرے سے بھی جوڑا گیا تھا، جس سے ابتدائی عمر میں متوازن غذا کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تحقیق میں شامل افراد سنہ 1940 اور سنہ 1950 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے اس لیے اس دور کی غذائی عادات اور طرز زندگی آج کے بچوں سے کافی مختلف تھے۔

مزید پڑھیں: خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ان نتائج کو موجودہ نسل پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا تاہم ایک بات پر تقریباً تمام ماہرین متفق ہیں کہ خصوصاً زندگی کے ابتدائی برسوں میں متوازن غذا دماغی اور جسمانی صحت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جو روٹ دوبارہ انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان مقرر، اسٹیفن فلیمنگ ہیڈ کوچ بن گئے

نوکری کے لیے صرف آن لائن انٹرویو کافی نہیں، امیدوار کی اصل صلاحیت چھپ جاتی ہے، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ملتوی کیوں ہوئی؟ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نئے صوبے ضروری

وسیم اکرم کا لاپتا کتا مل گیا، اطلاع دینے والے 2 افراد کو 250,000 روپے انعام

وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی، فوری اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کا حکم

ویڈیو

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ملتوی کیوں ہوئی؟ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نئے صوبے ضروری

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین