امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز اب تک نہ ہو سکا ہے اور جنگ بندی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن بھی قریب آ چکی ہے جس وجہ سے اب خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی طور پر اس اضافے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک کم ہو چکی تھی جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہونے کے باعث اب اس کی قیمت میں 5 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس وقت قیمت 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل تک کم ہونے کے بعد اب بڑھ ہو کر 86 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 10 سے 15 روپے تک اضافہ متوقع ہے جبکہ مذاکرات موخر ہونے کی صورت میں یہ اضافہ 30 روپے فی لیٹر یا اس سے زائد بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی بڑی حد تک تیل کی درآمدات خلیجی ممالک سے وابستہ ہیں، جو اسی راستے سے آتی ہیں، جس کے باعث ملک اس جغرافیائی دباؤ سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معمولی جغرافیائی کشیدگی بھی پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں کے لیے بڑے معاشی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کی فروخت پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
اس وقت ملک بھر میں پیٹرول کی قیمت 366 روپے فی لیٹر ہے اور ڈیزل کی قیمت 353 روپے فی لیٹر ہے، حکومت نے آخری مرتبہ 18 اپریل کو جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا تو اس وقت خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب 95 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، حکومت اب 24 اپریل کو جمعہ کے روز آئندہ 7 دنوں کے لیے قیمتوں کا اعلان کرے گی۔
اگر توقعات کے مطابق امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز کل ہو جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔














