اقوام متحدہ کے ہجرت سے متعلق ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں ہجرت کے غیر قانونی راستوں پر تقریباً 7 ہزار 900 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے، جس کے بعد 2014 سے اب تک ہلاک اور لاپتا ہونے والے تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
عالمی ادارے کی جانب سے منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محفوظ راستوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث لوگ خطرناک اور غیر قانونی سفر اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، آئی او ایم کے مطابق سال 2025 میں ریکارڈ کی گئی 7 ہزار 904 اموات اس عالمی ناکامی کا تسلسل ہیں جسے روکنا ممکن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مہلک سفر: غیرقانونی تارکین وطن کی سب کچھ داؤ پر لگا کر یورپ پہنچنے کی کوشش
رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال امداد میں کٹوتیوں اور خطرناک راستوں کے حوالے سے معلومات پر پابندیوں کی وجہ سے لاپتا ہونے والے تارکینِ وطن کی بڑی تعداد منظرعام پر نہیں آسکی۔
ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اس بحران سے صرف مرنے والے ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے کم از کم 3 لاکھ 40 ہزار اہلخانہ بھی براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں جو اپنے پیاروں کی گمشدگی کے باعث نفسیاتی، سماجی، قانونی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی ممالک کی غیر قانونی ہجرت کیخلاف پاکستانی مؤقف کی حمایت
آئی او ایم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی جانیں بچانے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے اور مئی 2026 میں ہونے والے انٹرنیشنل مائیگریشن ریویو فورم کو اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 80 ہزار اموات کا اعدادوشمار صرف وہ ہے جو ریکارڈ ہوسکا، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔













