امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جو معاہدہ کررہے ہیں وہ ماضی کے معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ہم امریکا کو کسی ایسے معاہدے میں نہیں دھکیلیں گے جو کمزور ہو یا نامکمل ہو۔ اگر ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ باراک اوباما اور جوبائیڈن کی جانب سے تحریر کیا جانے والا معاہدہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اب تک کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ یہ دراصل ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک یقینی راستہ تھا، جو ہمارے موجودہ معاہدے میں نہ ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اس معاہدے کے تحت مبینہ طور پر 1.7 ارب ڈالر بوئنگ 757 میں ایران بھیجے گئے، تاکہ ایرانی قیادت اسے اپنی مرضی سے خرچ کر سکے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی، اور بینکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر مزید بھی ادا کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے، جو اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں اور صحافیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ جان بوجھ کر ماضی کے معاہدے کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ امریکا کے لیے خطرناک اور شرمناک معاہدہ تھا۔
امریکی صدر نے کہاکہ اگر ٹرمپ کے دور میں کوئی نیا معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکا اور پوری دنیا کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت ہوگا۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس پر دنیا فخر کرے گی، اس کے برعکس ماضی میں نااہل اور کمزور قیادت کی وجہ سے امریکا کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں، اور اصل مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ 47 سال سے جاری مسئلے کو درست طریقے سے حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد بازی میں کوئی غلط معاہدہ نہیں کریں گے، اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مکمل طور پر امریکا کے مفاد میں ہوگا۔
انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر جھوٹی خبریں دیکھی جائیں تو ایسا تاثر ملتا ہے کہ امریکا جنگ ہار رہا ہے، تاہم ان کے مطابق زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق الجھن کا شکار ہے کیونکہ ان کی بحریہ متاثر ہوئی ہے، فضائی طاقت غیر فعال ہو چکی ہے، اور میزائل و فضائی دفاعی نظام کمزور ہو چکے ہیں۔ جبکہ سابق قیادت کا بڑا حصہ منظر سے ہٹ چکا ہے، جسے انہوں نے رجیم چینج قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران پر عائد پابندی یا ناکہ بندی برقرار ہے اور جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو ان کے مطابق تہران کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔














