وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان کے پاس آئندہ 5 سے 6 ماہ کی ضروری ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ملک میں ادویات کی کسی قسم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
وزیر صحت نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ادویات کی دستیابی اور قومی سپلائی چین کا جائزہ لیا، اس موقع پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندے بھی موجود تھے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے باوجود وزارت صحت اور ڈریپ نے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے ہیں تاکہ ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
’اس وقت پاکستان کے پاس اتنی ادویات موجود ہیں جو اگلے 5 سے 6 ماہ کی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔‘
ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ ادارے ادویات کی مسلسل دستیابی کے لیے سخت نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیر صحت نے عوام کو یقین دلایا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے باوجود ادویات کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی اور حکومت صحت کی سہولیات تک مسلسل رسائی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں تشخیصی خدمات کے لیے استعمال ہونے والی ہیلیم گیس کی دستیابی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ایم آر آئی مشینوں کی سروس متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی اور لاجسٹک لاگت کے باوجود انڈسٹری اضافی بوجھ عوام تک منتقل نہیں کر رہی۔
پی پی ایم اے کے چیئرمین نارتھ عثمان شاکر نے کہا کہ صنعت مشکل معاشی حالات کے باوجود معیاری اور سستی ادویات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب یکجا کرکے ایم ڈی کیٹ پیپر بنایا ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال
ان کے مطابق خام مال اور پیکجنگ کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
انہوں نے حکومت اور ڈریپ کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی فارما انڈسٹری ہر ممکن حالات میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی فراہمی جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ ڈریپ نے بھی گزشتہ ماہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کو مسترد کردیا تھا۔
ڈریپ کے مطابق ضروری ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور سپلائی چین بھی متاثر نہیں ہوئی، کیونکہ ملک میں 85 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں۔














