امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران مالیاتی منڈیوں میں مشکوک تجارتی سرگرمیوں اور ‘ان سائیڈر ٹریڈنگ’ (خفیہ معلومات پر مبنی تجارت) کے الزامات نے امریکی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم اعلانات سے محض چند منٹ قبل عالمی منڈیوں میں کروڑوں ڈالرز کے ایسے سودے کیے گئے جن سے مخصوص تاجروں نے راتوں رات اربوں روپے کمائے، جس سے یہ شبہ گہرا ہو گیا ہے کہ حساس معلومات وقت سے پہلے ہی مخصوص حلقوں تک پہنچ رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ماسکو اسٹاک ایکسچینج میں چینی کرنسی نے امریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 9 مارچ 2026 کو جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ‘تقریباً مکمل’ قرار دیا، تو ان کے بیان سے ٹھیک 47 منٹ پہلے تیل کی قیمتیں گرنے پر کروڑوں ڈالرز کے سودے کیے جا چکے تھے۔ جیسے ہی ٹرمپ کا بیان سامنے آیا، تیل کی قیمتیں 25 فیصد گر گئیں اور ان تاجروں نے لاکھوں ڈالرز منافع کمایا۔
اسی طرح 23 مارچ کو ایران کے ساتھ ‘مکمل سمجھوتے’ کی ٹویٹ سے 14 منٹ قبل بھی تیل کی منڈی میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی اور قیمتیں 11 فیصد تک گر گئیں۔
یہی پیٹرن گزشتہ سال اپریل میں بھی دیکھا گیا جب ٹرمپ کے محصولات (ٹیرف) میں وقفے کے اعلان سے محض 18 منٹ پہلے اسٹاک مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی، جس سے سرمایہ کاروں نے 20 ملین ڈالرز تک منافع حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی ڈالر پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
تحقیقات میں آن لائن ‘پریڈکشن مارکیٹس’ جیسے پولی مارکیٹ اور کالشی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جن کے مشاورتی بورڈ میں صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی معزولی سے محض ایک دن قبل ایک نئے اکاؤنٹ نے 32 ہزار ڈالرز کی شرط لگائی اور اگلے دن مادورو کی گرفتاری پر 4 لاکھ 36 ہزار ڈالرز جیت لیے۔
اسی طرح فروری میں ایران پر امریکی حملوں کی تصدیق سے قبل 6 نئے اکاؤنٹس نے 1.2 ملین ڈالرز کمائے۔ اگرچہ امریکی سینیٹ کے اراکین نے ان مشکوک سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے ریگولیٹری اداروں کو خطوط لکھے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس اور متعلقہ اداروں نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔














