اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کے ساتھ بھارت کے مسلسل تجارتی اور سفارتی تعلقات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
بھارتی اخبار دی ہندو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں البانیز نے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود اسرائیل کے ساتھ اقتصادی یا عسکری روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں، انہیں قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی یہودیوں کی اکثریت غزہ جنگ کی خلاف ہوگئی، اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے اقدامات میں معاونت نہ کریں جو جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی پامالیوں کا سبب بن سکتے ہوں۔
فرانچیسکا البانیز کے مطابق حکومتوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو اس انداز میں ترتیب دیں کہ وہ انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کو فروغ نہ دیں۔
مزید پڑھیں: 9 ممالک اسرائیل کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے متحد
انہوں نے مزید کہا کہ جو ریاستیں ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہیں، ان کے احتساب کے لیے بین الاقوامی سطح پر طریقہ کار موجود ہیں۔
فرانچیسکا البانیز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ تنازع میں تیسرے ممالک کے کردار پر عالمی سطح پر نگرانی اور بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔













