ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا گہرا اثر بٹ کوائن پر بھی پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت قریباً 76 ہزار 200 ڈالر ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی قدر میں 1.5 سے 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی طور پر گزشتہ 2 ماہ سے قیمت ایک محدود دائرے میں گھوم رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں متوقع ہے۔ چونکہ کیا ہوگا اس حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار انتظار میں ہیں۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کی کرپٹو ایکسچینج کی غلطی، 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن صارفین کو منتقل

فروری 2026 میں جب خطے میں کشیدگی بڑھی تو بٹ کوائن کی قیمت گر کر 60 ہزار ڈالر تک آگئی۔ مارچ کے آغاز میں یہ 63 ہزار سے 65 ہزار ڈالر کے درمیان رہی۔

8 اپریل 2026 کو دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے اعلان کے فوراً بعد بٹ کوائن کی قیمت میں قریباً 5 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

بٹ کوائن کی قیمت 68 ہزار سے 69 ہزار ڈالر کے قریب تھی، جو بڑھ کر 72 ہزار 841 ڈالر تک پہنچ گئی، جو مارچ کے وسط کے بعد کی بلند ترین سطح تھی۔

اس تمام صورتحال کے بعد مذاکرات کے آغاز پر یعنی 11 اپریل کو بٹ کوائن کی قیمت 72 ہزار سے 73 ہزار ڈالر کے درمیان مستحکم رہی۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پہلا مرحلہ قریباً 21 گھنٹے جاری رہا لیکن کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بٹ کوائن کی قیمت 73 ڈالر سے نیچے آگئی۔

یہ بھی پڑھیے: بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟

بٹ کوائن کی قیمت میں ایک دن میں 3 سے 4 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس دوران مارکیٹ میں گھبراہٹ کے باعث فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔

جیسے ہی 12 اپریل کو یہ خبریں آئیں کہ مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاکہ ایران نے شرائط قبول نہیں کیں، تو مارکیٹ میں رسک آف کا ماحول بن گیا۔

اس ساری صورت حال کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں 2 سے 3 فیصد تک کی گراؤٹ دیکھی گئی، اور قیمت 73 ہزار ڈالر سے نیچے آ کر 70 ہزار ڈالر ہوگئی۔

13 اپریل کو بٹ کوائن قریباً 70 ہزار 741 سے 71 ہزار 929 ڈالر کے درمیان ٹریڈ کر رہا تھا، جو پچھلے دن سے ایک سے 3 فیصد نیچے تھا۔

اب چونکہ مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے، اور راؤنڈ ٹو کے اعلان کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں پھر سے تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

اس وقت بٹ کوائن تقریباً 76 ہزار ڈالر کے قریب مستحکم ہے۔

موجودہ جغرافیائی کشیدگی بٹ کوائن کے لیے بڑا اثر رکھتی ہے، طاہر نقاش

کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے وسیع مطالعہ رکھنے والے طاہر نقاش کہتے ہیں کہ موجودہ جغرافیائی کشیدگی بٹ کوائن کے لیے بڑا اثر رکھتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھا تو ابتدائی طور پر سرمایہ کار غیر یقینی کی وجہ سے بٹ کوائن سمیت خطرے والے اثاثوں سے نکلتے ہیں، جس سے قیمت پر دباؤ آتا ہے۔ تاہم اگر صورتحال لمبی ہو جائے تو یہی عوامل عالمی مالیاتی نظام پر دباؤ ڈال کر مرکزی بینکوں کو نرم پالیسی اپنانے پر مجبور کرتے ہیں، جو بالآخر بٹ کوائن کے لیے مثبت ثابت ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، جس سے بٹ کوائن میں تیزی آ سکتی ہے اور قیمت 85 ہزار ڈالر تک بھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کشیدگی برقرار رہی تو قلیل مدت میں قیمت 70 ہزار ڈالر کے قریب آ سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں رجحان مثبت ہی رہے گا۔

بٹ کوائن کی موجودہ قیمت کا تعلق براہ راست عالمی مالیاتی پالیسی سے ہے، ارسلان بٹ

محمد ارسلان بٹ کوائن سرمایہ کار ہیں جن کے مطابق بٹ کوائن کی موجودہ قیمت کا تعلق براہ راست عالمی مالیاتی پالیسی سے ہے، اور جغرافیائی کشیدگی اس پالیسی کو متاثر کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کو ایران کے ساتھ تنازع میں مزید الجھنا پڑا تو اسے معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی یا مالیاتی نرمی کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، جو بٹ کوائن کے لیے ایک مضبوط مثبت اشارہ ہوگا۔

ان کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں فوری طور پر ایک تیز رفتار اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں وقتی گراؤٹ آئے گی، لیکن بڑے سرمایہ کار اس موقع کو خریداری کے لیے استعمال کریں گے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بٹ کوائن اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں ہر بڑی سیاسی خبر اس کی قیمت کو تیزی سے اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہے۔

مالیاتی منڈیاں کسی بھی بڑی سیاسی شخصیت کے کردار کو ایک سگنل کے طور پر دیکھتی ہیں

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ یا اُن سے جڑے بااثر حلقے کسی بھی سطح پر عالمی مذاکرات یا سیاسی عمل میں شامل ہوں تو اس کا بٹ کوائن کی قیمت پر اثر ضرور پڑ سکتا ہے، لیکن یہ اثر براہِ راست ان کی کرپٹو سرمایہ کاری کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ دراصل مالیاتی منڈیاں کسی بھی بڑی سیاسی شخصیت کے کردار کو ایک سگنل کے طور پر دیکھتی ہیں۔ اگر مارکیٹ کو یہ تاثر ملے کہ مذاکرات سنجیدہ ہیں اور کشیدگی کم ہو سکتی ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے، جس سے بٹ کوائن کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمت اوپر جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی، بٹ کوائن کی قیمت 16 ماہ کی کم ترین سطح پر

ان کے مطابق اس کے برعکس اگر یہ تاثر بنے کہ مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں یا سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے تو خوف اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور قیمت پر دباؤ آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس لیے اصل اثر کسی فرد کی ذاتی سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ اُس کے سیاسی کردار اور اس سے پیدا ہونے والے عالمی اعتماد یا عدم اعتماد سے ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار