لبنان میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی مبینہ توڑ پھوڑ پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مذہبی و سیاسی شخصیات نے اس اقدام کو نہ صرف مسیحی عقیدے کی توہین قرار دیا بلکہ اسے اخلاقی ناکامی بھی کہا ہے، جبکہ اسرائیل نے واقعے پر معذرت کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
یروشلم کے لاطینی بشپ کارڈینل پیئرباتستا پیزابالا نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے‘ ، پوپ لیو کا لہجہ سخت ہونے لگا
اطالوی خبر رساں ادارے ANSA کے مطابق اپنے بیان میں انہوں نے اس عمل پر شدید برہمی اور غیر مشروط مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسیحی عقیدے کی سنگین توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف مذہبی علامات کی بے حرمتی ہے بلکہ ایسے دیگر واقعات کا بھی حصہ ہے جو تشویش کا باعث ہیں۔
کارڈینل پیزابالا نے اس عمل کو اخلاقی اور انسانی تربیت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے امن کے اس تصور کو دہرایا جس پر پوپ لیو نے زور دیا ہے، یعنی ایسا امن جو ہتھیاروں سے پاک اور دلوں کو نرم کرنے والا ہو۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی پولیس نے مذہبی رہنماؤں کو تاریخی چرچ میں داخلے سے روک دیا، صدیوں میں پہلی بار پام سنڈے ماس منسوخ
دوسری جانب اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی اس واقعے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی علامات کی توہین طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔
یہ معاملہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو جنوبی لبنان میں ہتھوڑے سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس تصویر نے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت سامنے آئی۔














