بنگلہ دیش کا غیر ملکی قرض 78 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش پر غیر ملکی قرض کا حجم 78 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے ریڈی میڈ گارمینٹس کی ایکسپورٹ معطل

وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری نے بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ملک کا مجموعی غیر ملکی قرض 78 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

منگل کے روز پارلیمانی سوال و جواب کے سیشن کے دوران انہوں نے کہا کہ فروری 2026 تک بنگلہ دیش کا کل بیرونی قرض 78.067 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ سوال اپوزیشن رکن رومین فارہانہ کی جانب سے ملک کی مالی ذمہ داریوں اور قرض کی ادائیگی کے حوالے سے پوچھا گیا تھا۔

وزیر خزانہ کے مطابق اقتصادی تعلقات ڈویژن حکومت کی جانب سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کرتا ہے اور ہر مالی سال میں اصل زر اور سود کی ادائیگی کے تخمینے بجٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی طے شدہ شیڈول کے مطابق باقاعدگی سے جاری ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً 90.66 ملین ڈالر کے غیر ملکی قرض کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

معاشی بحالی کا 4 نکاتی منصوبہ

وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور مالیاتی شعبے کی بہتری کے لیے چار نکاتی حکمت عملی اپنائی ہے۔

اس منصوبے کے تحت مالی سال 2028-29 تک ایک درمیانی مدت کا معاشی فریم ورک منظور کیا گیا ہے، جس میں مالی اور مانیٹری پالیسیوں کو مربوط کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کی بڑی کارروائی، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط

انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے پالیسی شرح سود 10 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں غذائی مہنگائی جو جولائی 2024 میں 14.10 فیصد تھی، مارچ 2026 تک کم ہو کر 8.24 فیصد پر آ گئی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری

وزیر خزانہ کے مطابق 15 اپریل 2026 تک بنگلہ دیش کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 34.87 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کے معیار (BPM-6) کے مطابق یہ 30.20 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

بینکاری شعبہ دباؤ کا شکار

انہوں نے اعتراف کیا کہ بینکاری شعبہ شدید سرمائے کی کمی اور دباؤ کا شکار ہے جس کی وجوہات میں کرنسی کی قدر میں کمی، بڑھتی ہوئی لاگت اور بڑے پیمانے پر قرضوں کی عدم ادائیگی شامل ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیشی ٹکا کی قدر میں 40 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے، جبکہ کاروباری اداروں کے سرمائے میں تقریباً 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش اور امریکا 9 فروری تک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیں گے، سیکریٹری تجارت

حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بجٹ سپورٹ، آئی ایم ایف کے تعاون سے بینکوں کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ مالی نظام پر اعتماد بحال کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہم ہیں پاکستان‘ یوتھ مہم کا افتتاح، نوجوانوں کو قومی ترقی میں شامل کرنے پر زور

پاکستان میں 2 دہائیوں بعد سمندری تیل و گیس کی تلاش دوبارہ شروع، 23 آف شور بلاکس کی منظوری

تلویندر کے ساتھ پرفارمنس پر پاکستانی گلوکار حسن رحیم نے خاموشی توڑ دی

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل، مظفرآباد میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب

امریکا نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فوجداری الزامات عائد کردیے

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟