ایران کی نجی سطح پر گفتگو عوامی مؤقف سے مختلف، صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا، ترجمان وائٹ ہاؤس

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے کسی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ سیز فائر میں توسیع سے متعلق فیصلہ مشترکہ اور متفقہ انداز میں کیا جائے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی سے مطمئن ہیں۔ اور ایران کو لازمی طور پر افزودہ یورینیم حوالے کرنا ہوگا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیاکہ ایران کی نجی سطح پر امریکا کے ساتھ کی جانے والی بات چیت اس کے عوامی مؤقف سے مختلف ہوتی ہے۔

کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اصل کشمکش ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل دھڑوں کے درمیان ہے، جہاں جنگ بندی کے معاملے پر واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بلکہ 3 سے 5 روز کے لیے کی ہے۔

امریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کو غیر معینہ مدت کے بجائے محدود مدت یعنی 3 سے 5 دن تک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کو اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے مختصر وقت دینا چاہتے ہیں اور وہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے نزدیک مقررہ ڈیڈ لائن کا دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک جاری رکھی جائے گی جب تک مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp