بانی پی ٹی آئی عمران خان سے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی اڈیالہ جیل میں خفیہ ملاقات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
مختلف سوشل میڈیا اکاونٹس اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ سابق وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے چند روز پہلے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے اور اس میں بانی پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں اہم بات چیت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ کم کیوں ہوا؟ علی امین گنڈا پور کا اندرونی کمزوریوں کا اعتراف
اس بارے میں پشاور کے صحافی یاسر حسین کا دعوٰی ہے کہ 5-4 روز قبل عمران خان اور علی امین گنڈاپور کی صبح سویرے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرائی گئی۔
ان کے مطابق اس ملاقات میں عمران خان کو ایک مرتبہ پھر یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ 6 ماہ تک مکمل خاموشی اختیار کریں تو ان کی بنی گالہ منتقلی کا آپشن موجود ہے۔ اس دوران وہ پارٹی امور اور دیگر ملاقاتوں سے بھی دور رہیں گے۔
یاسر حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے حتمی جواب دینے کے لیے کچھ وقت مانگا ہے اور مشاورت کے لیے اسی روز معمول سے ہٹ کر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے بھی ملاقات کرائی گئی۔

عمران خان کی ایک اور خفیہ ملاقات آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات ہو چکی ہے، جس میں بنی گالہ منتقلی، عمران خان کے علاج اور کیسز پر نظرثانی جیسے معاملات زیرِ غور آئے۔
یاسر حسین کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جانب سے نہ تو اس ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔ تاہم اس نوعیت کی مزید خفیہ ملاقاتوں کے شواہد بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وی نیوز کے استفسار پر بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور کا عمران ریاض کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد آج تک علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے، علی امین گنڈاپور سے 2 روز قبل ان کی بات ہوئی تھی، تاہم اس گفتگو میں اس ملاقات کا کوئی ذکر نہیں آیا۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان سے ہونے والی ہر ملاقات سے انہیں آگاہ کیا جاتا ہے، چاہے وہ ڈاکٹروں کا معمول کا دورہ ہی کیوں نہ ہو۔
اڈیالہ جیل حکام نے بھی عمران خان اور علی امین گنڈاپور کی کسی خفیہ ملاقات کی تصدیق نہیں کی۔
وی نیوز نے اس حوالے سے علی امین گنڈاپور اور ان کے ترجمان سے بھی رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔












