ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں سے متعلق معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 اپریل کو اکثریتی ارکان کی ریکوزیشن پر طلب کر لیا گیا ہے، جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ججوں کے تبادلے سے متعلق قانون کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو متاثر کرے گا؟
ذرائع کے مطابق ججز کے تبادلے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی عمومی ریکوزیشن چیف جسٹس نے ابتدا میں مسترد کر دی تھی، تاہم دو تہائی ارکان کی جانب سے دوبارہ ریکوزیشن دیے جانے پر 28 اپریل کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مجوزہ ججز تبادلوں کو خطرناک نظیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کو محض قابلِ تبادلہ سمجھنا عدلیہ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 اپریل کو طلب، ججز کے تبادلوں پر غور متوقع
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات عدالتی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اس سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے آئندہ اجلاس میں ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔












