امریکا نے بھنگ کو کم خطرناک منشیات کی فہرست میں شامل کرلیا

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ انصاف نے منشیات کی دہائیوں پرانی  پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے بھنگ کی درجہ بندی کو تبدیل کرنے اور اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایف ڈی اے سے منظور شدہ مصنوعات اور طبی استعمال کے لیے قانونی قرار دی گئی بھنگ کو انتہائی نشہ آور ادویات کے زمرے سے نکال کر ان ادویات کی فہرست میں شامل کردیا ہے جن کا استعمال کم یا معتدل خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھنگ پینے والی حاملہ خواتین کو کیا طبی مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟ ماہرین نے انتباہ جاری کردیا

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے مطابق امریکی حکومت بھنگ کو ‘شیڈول ون’ سے نکال کر ‘شیڈول تھری’ میں منتقل کرنے کے عمل کو تیز کررہی ہے، جس کے بعد اسے ہیروئن اور ایل ایس ڈی کے بجائے عام درد کش ادویات، کیٹامائن اور ٹیسٹوسٹیرون کے ساتھ درج کیا جائے گا۔

 اس تاریخی اقدام کا مقصد طبی تحقیق میں حائل رکاوٹیں دور کرنا، مریضوں کو بہتر نگہداشت فراہم کرنا اور ڈاکٹروں کو اس کے فوائد و نقصانات کے بارے میں مستند معلومات تک رسائی دینا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کینابس کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 13 فیصد تک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کینابس انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوگا اور کمپنیوں کے لیے فنڈز کا حصول آسان ہو جائے گا، تاہم اس کا مطلب پورے ملک میں اس کی عام قانونی اجازت نہیں ہے۔

 واضح رہے کہ امریکا کی تقریباً 40 ریاستوں میں بھنگ پہلے ہی کسی نہ کسی شکل میں قانونی ہے اور سال 2026 تک اس کی قانونی فروخت 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھنگ پینے والی حاملہ خواتین کو کیا طبی مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟ ماہرین نے انتباہ جاری کردیا

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس معاملے پر ماہرین کی رائے اور شواہد جمع کرنے کے لیے 26 جون سے باقاعدہ سماعتوں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ درجہ بندی کی تبدیلی کو حتمی شکل دی جاسکے۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے جس میں انہوں نے منشیات کے حوالے سے وفاقی پالیسیوں کو جدید سائنسی اور طبی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp