امریکی محکمہ انصاف نے منشیات کی دہائیوں پرانی پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے بھنگ کی درجہ بندی کو تبدیل کرنے اور اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایف ڈی اے سے منظور شدہ مصنوعات اور طبی استعمال کے لیے قانونی قرار دی گئی بھنگ کو انتہائی نشہ آور ادویات کے زمرے سے نکال کر ان ادویات کی فہرست میں شامل کردیا ہے جن کا استعمال کم یا معتدل خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھنگ پینے والی حاملہ خواتین کو کیا طبی مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟ ماہرین نے انتباہ جاری کردیا
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے مطابق امریکی حکومت بھنگ کو ‘شیڈول ون’ سے نکال کر ‘شیڈول تھری’ میں منتقل کرنے کے عمل کو تیز کررہی ہے، جس کے بعد اسے ہیروئن اور ایل ایس ڈی کے بجائے عام درد کش ادویات، کیٹامائن اور ٹیسٹوسٹیرون کے ساتھ درج کیا جائے گا۔
اس تاریخی اقدام کا مقصد طبی تحقیق میں حائل رکاوٹیں دور کرنا، مریضوں کو بہتر نگہداشت فراہم کرنا اور ڈاکٹروں کو اس کے فوائد و نقصانات کے بارے میں مستند معلومات تک رسائی دینا ہے۔
Under the decisive leadership of @POTUS, this Department of Justice is delivering on his promise to improve American healthcare. This includes:
• Immediately rescheduling FDA-approved marijuana and state-licensed marijuana from Schedule I to Schedule IIl
• Ordering a new,… pic.twitter.com/DUtqKQgavl
— Acting AG Todd Blanche (@DAGToddBlanche) April 23, 2026
اس فیصلے کے ساتھ ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کینابس کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 13 فیصد تک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کینابس انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوگا اور کمپنیوں کے لیے فنڈز کا حصول آسان ہو جائے گا، تاہم اس کا مطلب پورے ملک میں اس کی عام قانونی اجازت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی تقریباً 40 ریاستوں میں بھنگ پہلے ہی کسی نہ کسی شکل میں قانونی ہے اور سال 2026 تک اس کی قانونی فروخت 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھنگ پینے والی حاملہ خواتین کو کیا طبی مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟ ماہرین نے انتباہ جاری کردیا
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس معاملے پر ماہرین کی رائے اور شواہد جمع کرنے کے لیے 26 جون سے باقاعدہ سماعتوں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ درجہ بندی کی تبدیلی کو حتمی شکل دی جاسکے۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے جس میں انہوں نے منشیات کے حوالے سے وفاقی پالیسیوں کو جدید سائنسی اور طبی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت کی تھی۔














