کروڑوں کی گاڑی میں آم فروخت کرنے والا تعلیم یافتہ نوجوان

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مصروف سڑکوں پر جب ایک قیمتی اور کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی رکتی ہے اور اس میں سے ایک نوجوان آم فروخت کرتا نظر آتا ہے تو ہر شخص حیران رہ جاتا ہے۔

لوگ سوچتے ہیں کہ آخر اتنی مہنگی گاڑی کا مالک سڑک کنارے پھل کیوں بیچ رہا ہے؟ لیکن اس نوجوان کی کہانی صرف آم فروخت کرنے کی نہیں بلکہ محنت، خودداری، تعلیم اور مثبت سوچ کی ایک مثال ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں ایک نوجوان اپنی مہنگی گاڑی کے ساتھ سڑک کنارے آم فروخت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: تندور سے ترقی کے زینے تک پہنچنے والا نوجوان، جسے وزیراعظم نے گلے لگا لیا

محمد سمیر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ کے رہائشی ہیں، اور معروف تعلیمی اداروں کنگز کالج لندن اور یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے گریجویشن کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود میں نے یہ سیکھا ہے کہ کوئی بھی حلال کام چھوٹا نہیں ہوتا۔

محمد سمیر نے بتایا کہ میں پیشے کے اعتبار سے فارماسیوٹیکل سیکٹر میں بطور کمپلائنس کوآرڈینیٹر کام کر رہا ہوں، لیکن ساتھ ہی میں نے آموں کا ایک چھوٹا سا کاروبار بھی شروع کیا ہے۔ میرے ایک دوست کی فروٹ کمیشن ایجنسی ہے اور وہ آڑھتی کا کام کرتے ہیں۔ میں انہی سے معیاری آم خریدتا ہوں اور انتہائی کم منافع پر لوگوں تک پہنچاتا ہوں۔

انہں نے کہاکہ میرا مقصد زیادہ منافع کمانا نہیں بلکہ معیاری پھل مناسب قیمت پر فراہم کرنا ہے۔ بازار میں یہی کوالٹی کے آم 300 سے 350 روپے فی کلو تک فروخت ہوتے ہیں جبکہ میں یہی آم قریباً 275 روپے فی کلو فروخت کررہا ہوں۔

محمد سمیر نے کہاکہ اکثر لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ میں اتنی مہنگی گاڑی میں آم کیوں فروخت کرتا ہوں تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ یہ گاڑی پہلے سے میرے پاس موجود ہے اور اس میں 20 سے 30 پیٹیاں آسانی سے آ جاتی ہیں۔ اگر کاروبار کے لیے الگ گاڑی خریدوں تو اس پر مزید 20 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ بزنس کی تعلیم ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جو وسائل آپ کے پاس موجود ہوں، سب سے پہلے انہی کو استعمال کرتے ہوئے کاروبار شروع کرنا چاہیے۔ اگر میرے پاس پہلے سے ایک گاڑی موجود ہے تو صرف دکھاوے یا روایتی سوچ کی وجہ سے مزید سرمایہ خرچ کرنا دانشمندی نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ عام طور پر پھل دکانوں سے خریدنے کے عادی ہیں، لیکن جب وہ مجھے ایک بڑی گاڑی کے ساتھ سڑک کنارے آم فروخت کرتے دیکھتے ہیں تو ابتدا میں حیران ہوتے ہیں۔ تاہم جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان محنت کررہا ہے اور حلال روزی کما رہا ہے تو وہ بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ سے ملاقات کے بعد خیرپور کے شہری اظہر میمن کی پی ٹی وی میں ملازمت، نئی ویڈیو بھی سامنے آگئی

انہوں نے کہاکہ بہت سے لوگ اپنی گاڑیاں روک کر مجھ سے بات کرتے ہیں، میری تعریف کرتے ہیں اور آم خرید کر میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اس محبت اور سپورٹ سے مجھے مزید حوصلہ ملتا ہے کہ میں ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp