وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹس میں دائر ہونے والی آئینی درخواستوں (رٹ پٹیشنز) کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جہاں قانون کے تحت دادرسی کا متبادل فورم موجود ہو، وہاں براہ راست ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق کیس میں جاری کیا۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رٹ پٹیشنز میں ایسے مقدمات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جو متنازع حقائق پر مبنی ہوں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات میں پہلے مجاز فورم پر حقائق کا تعین ہونا ضروری ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق آئینی دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹس براہ راست حقائق کا تعین نہیں کر سکتیں، جبکہ اگر تنازع حقائق پر مبنی ہو تو شواہد ریکارڈ کرکے درست حقائق کا تعین مجاز فورم پر کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے مطابق ان انتخابات کو مجاز فورم پر چیلنج کیا جا سکتا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخابات کالعدم قرار دے کر اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کوآپریٹو کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق تنازع ایک ماہ کے اندر نمٹائے۔














