ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں توقع سے کہیں زیادہ نقصان ہوا ہے، جس کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آسکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ نقصان کی اصل شدت اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد خطے کے مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے، بیرسٹر گوہر
ان حملوں میں کم از کم 7 ممالک میں موجود فوجی گوداموں، کمانڈ سینٹرز، طیارہ ہینگرز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز، رن ویز، ریڈار نظام اور بعض طیاروں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک موقع پر ایران کا پرانا ایف-5 جنگی طیارہ بھی امریکی دفاعی نظام کو عبور کرکے حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
کچھ ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے اس معاملے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ہفتوں سے معلومات مانگی جا رہی ہیں مگر واضح جواب نہیں دیا جا رہا، جبکہ پینٹاگون ریکارڈ دفاعی بجٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے پاس ڈیل کا تاریخی موقع، ایٹمی پروگرام ترک کرنا ہوگا: امریکی وزیرِ دفاع
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ایران جنگی اخراجات کے لیے کانگریس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز مانگ رہا ہے۔ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں امریکا 11 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا تھا۔
اس سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1.5 ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیا تھا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ تھا۔ تاہم امریکی کانگریس پہلے ہی 2026 کے لیے 838.5 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کر چکی ہے۔














