برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت بحال کرنے کی فوری ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے، تاکہ عالمی شپنگ نظام دوبارہ معمول پر آسکے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی پیشکش، ترکیہ کا ایران امریکہ معاہدے کی صورت میں تعاون کا اشارہ
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس میں ایک عشائیے کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد برطانوی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی بحالی کے معاملے پر تفصیلی غور کیا۔
انہوں نے اس بات پر اتفاق کیاکہ اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹوں کے باعث عالمی معیشت متاثر ہورہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ مشترکہ کوششوں اور حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بحال کرنا ہے۔
ادھر برطانیہ نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک بین الاقوامی اجلاس کی بھی صدارت کی تھی، جس میں 40 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں متعلقہ ممالک کے فوجی حکام نے بھی مشاورت کے ذریعے صورتحال کا جائزہ لیا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی میں کب مسلح حملوں اور دھمکیوں کا سامنا رہا؟
اس مشترکہ سفارتی و عسکری کوشش میں برطانیہ کے ساتھ فرانس، جرمنی اور دیگر بڑی عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں، جو خطے میں بحری سلامتی اور تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے کام کررہی ہیں۔














