دنیا بھر کی تیز رفتار معیشتوں نے ‘ہسل کلچر’ کو ایک نیا معمول بنا دیا ہے۔ اب صرف ایک نوکری پر انحصار کرنے کے بجائے لوگ آمدنی کے متعدد ذرائع تلاش کررہے ہیں۔ امریکا جیسے ممالک میں تقریباً 44 فیصد محنت کش طبقہ کسی نہ کسی ‘سائیڈ بزنس’ سے جڑا ہے، جن میں سے اکثریت کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 83 فیصد پاکستانیوں کی لائبریری اور 60 فیصد کی کھیل میدان تک رسائی نہیں، تحقیق
اب یہ رجحان پاکستان میں بھی تیزی سے جڑیں پکڑ رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ تصور عام ہورہا ہے کہ اپنی مستقل ملازمت یا کیریئر کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی وقت دیا جائے اور اسے آمدنی کا ذریعہ بنایا جائے۔
پاکستان میں عموماً طلبا کو انجینیئرنگ، میڈیکل یا قانون جیسے روایتی شعبوں کی طرف راغب کیا جاتا ہے، جبکہ تخلیقی کاموں (جیسے موسیقی، اداکاری یا فوٹوگرافی) کو کل وقتی پیشے کے طور پر اپنانا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نوجوان اپنے ان تخلیقی شوق کو ‘سائیڈ ہسل’ کے طور پر جاری رکھتے ہیں۔ اب یہ سوال عام ہورہا ہے کہ کیا ایک ڈاکٹر موسیقار نہیں ہو سکتا؟ یا ایک وکیل اداکاری نہیں کر سکتا؟
یہ بھی پڑھیں: وہ چند ممالک جہاں غیر ملکی ملازمین کی تنخواہیں زیادہ ہیں
تاہم، اس کلچر کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ 2 مختلف کشتیوں میں سوار ہونا ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر تھکا دینے والا عمل ثابت ہو سکتا ہے، جو اکثر ‘برن آؤٹ’ یعنی شدید ذہنی تھکن کا سبب بنتا ہے۔ بعض اوقات ایک شعبے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دوسرے شعبے میں ترقی کی رفتار کو سست کردیتی ہے۔
آج کی نسل میں جہاں ہر کوئی اپنے شوق سے پیسے کمانے کی دوڑ میں شامل ہے، وہیں ایک خاموش سماجی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ ’اپنا کچھ الگ‘شروع کرنا لازمی ہے، جو کبھی کبھار تخلیقی شوق کو ذہنی بوجھ میں بدل دیتا ہے۔














