لاہور ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر ایف آئی اے اہلکار اور سابق ٹی وی میزبان و سیاستدان اقرار الحسن کے درمیان پیش آنے والے تلخ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اداکارہ سبینہ فاروق نے شدید ردعمل دیا ہے۔
اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ جب مرضی کی حکومت حکومت آئے صرف تب نوکری کریں ورنہ تب تک گھر بیٹھ جائیں؟ جس کی حکومت ہے اس کی عبادت شروع کر دیں؟ کیا اپنی رائے دینا چھوڑ دیں؟ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کا پورا ملک گالیاں دے رہا ہے تو کیا وہ سب لوگ استعفیٰ دے دیں؟

اداکارہ نے مزید کہا کہ مختلف ممالک میں ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت کام کرتے ہیں اور ملازمین کی ذاتی رائے ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرتی وہ اپنے ساتھیوں سے جو مرضی بات کریں آپ کو اس سے کیا؟ انہوں نے اقرار الحسن کے رویے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر اس طرح کا طرزِ عمل مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن نے 21 سال بعد اے آر وائی نیوز چھوڑ دیا، وجہ بھی بتادی
سبینہ فاروق نے یہ بھی کہا کہ اظہارِ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی توہین کی جائے یا عوامی مقامات پر جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق باوقار انداز میں اختلافِ رائے کا اظہار زیادہ مؤثر اور مہذب طریقہ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اقرار الحسن کی ائیر پورٹ پر ایف آئی اے اہلکار سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ میرے ٹیکس کے پیسوں سے یونیفارم پہنا ہے اور پھر گالیاں بھی دے رہے ہو۔ اگر عمران خان کے صحیح فالوور ہو تو تھوڑی سی دلیری تو دکھاؤ، مرد کے بچے بنوں ناں،جو بات کی ہے مانو تو سہی۔
مکمل ویڈیو:
آپ کو آپ کی فیملی کے سامنے سیاسی اختلاف کی وجہ سے کوئی سرکاری افسر تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنائے تو آپ کیا کریں گے؟؟ حیرت ہے کہ پی ٹی آئی، ایف آئی اے کے اس افسر کی بدتہذیبی کا دفاع کر رہی ہے جس کے ہر کارکن، ہر یوٹیوبر اور اُن کی فیملیز کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی… pic.twitter.com/gp7UsmO3YF— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) April 26, 2026
اس پر ایف آئی اے اہلکار کاکہناتھا کہ سر آپ بحث کررہے ہیں، سابق صحافی نے کہاکہ آپ بحث کررہے ہیں اہلکار کا کہنا تھا کہ سر میں اپنی ڈیوٹی کررہا ہوں، جس پر اقرار نے کہا کہ آپ اپنی ڈیوٹی نہیں کررہے تھے، آپ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ یونیفارم میں امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے ہو کر کسی پر سیاسی تبصرہ کریں، آپ کو شرم نہیں آرہی کہ اس بات پر آپ معافی مانگیں۔














