معروف اینکر اقرار الحسن نے اے آر وائی نیوز سے 21 سالہ طویل وابستگی کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ادارے سے منسلک تھے۔
اپنے پیغام میں اقرار الحسن نے کہا کہ انہیں اے آر وائی نیوز اور اپنی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا اور انہوں نے اپنی دوسری ذمہ داری کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہے کیونکہ اے آر وائی نیوز کے ساتھ ان کی طویل یادیں وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن کی تیسری اہلیہ عروسہ خان کے لاکھوں کے کپڑے اور جوتے، حیران کن قیمت بھی بتادی
انہوں نے کہا کہ اے آر وائی نیوز نے ان کے کیریئر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اسی پلیٹ فارم کے ذریعے انہیں دنیا بھر میں شناخت ملی۔ ان کے مطابق پروگرام ’سرِ عام‘ ان کے کیریئر کا ایک اہم اور یادگار باب رہا ہے جو اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
اے آر وائی اور عوام راج تحریک میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا تھا سو میں نے عوام راج کا انتخاب کیا ہے۔ بہت ساری یادوں کے ساتھ اکیس سال کا شاندار سفر شاندار طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ پروگرام سرعام کو اتنی محبتیں اور دعائیں دینے کا شکریہ۔
پاکستان زندہ باد
عوام راج پائندہ باد pic.twitter.com/XQ8Hgoco86— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) April 15, 2026
اقرار الحسن نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک عام امیدوار کے طور پر بغیر کسی سفارش کے نیوز کاسٹر منتخب ہوئے تھے اور ادارے میں ان کا سفر سیکھنے اور ترقی کا ذریعہ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے آسان نہیں تھا کیونکہ اے آر وائی ان کے لیے ایک فیملی کی طرح رہا ہے جہاں سالگرہ اور شادی کی سالگرہ تک منائی جاتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنا اور اپنے بچے کا مستقبل داؤ پر لگا کر میں نے پاکستان کے بچوں کے مستقبل کا انتخاب کیا ہے۔ ربِ کعبہ کی قسم میں نے جس عوام راج تحریک کے لیے اے آر وائی چھوڑا ہے اس تحریک میں یا اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت میں کبھی کوئی عہدہ یا اختیار اپنے پاس نہیں رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: فرح یوسف نے اقرارالحسن سے علیحدگی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
انہوں نے کہا کہ اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ نہ آج اس تحریک سے میرا کوئی مفاد وابستہ ہے اور نہ آئندہ ہو گا سوائے اس کے کہ اس کے نتیجے میں میرے وطن سے سیاسی اور فوجی اشرافیہ کے تسلط کا خاتمہ ہو۔ انشاء اللہ یہ تحریک میرٹ، قابلیت اور انٹرنل جمہوریت کی بنیاد پر پاکستان کے عام لوگوں اور مڈل کلاس کو اقتدار میں لائے گی، وڈیروں، جاگیرداروں، امیرزادوں اور فوجی اشرافیہ کے اٹھہتر سال کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا۔














