راولپنڈی اسلام آباد: پبلک ٹرانسپورٹ بندش کے دوران ریل سے سفر میں کتنا اضافہ ہوا؟

پیر 27 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں امن مذاکرات و غیر ملکی شخصیات کی آمد و رفت کے دوران دارالخلافے اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی عارضی بندش کے باعث ریلوے کا بزنس چمک اٹھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ٹریفک پابندیاں، ہیوی ٹرانسپورٹ کا داخلہ تاحکم ثانی بند، پیٹرول ٹینکرز اور اشیائے خورونوش لانے والی گاڑیاں نہ روکنے کا فیصلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریل سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان ریلوے کے ریکارڈ کے مطابق 18 سے 24 اپریل کے دوران صرف راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد مسافروں نے مختلف شہروں کا سفر کیا جو معمول کے مقابلے میں تقریباً 38 ہزار زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مسافروں کی اس غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان ریلوے کی راولپنڈی اسٹیشن سے آمدن میں 44 فیصد سے زائد اضافہ بھی ہوا۔

مزید پڑھیے: جڑواں شہروں کی انتظامیہ نے دکانیں اور بس اڈے بند کراوانے کے حوالے سے خبروں کی تردید کردی

بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی بوگیوں کا انتظام کیا گیا تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کا طویل انٹرویو، کس طرح اور کیسے ممکن ہوا؟

قائمہ کمیٹی برائے ہاؤس و لائبریری کا اجلاس، پارلیمنٹ لاجز میں اضافی فیملی سوئٹس پر پیشرفت کا جائزہ

جنوری 2025 تا حال: ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید، یونیسیف

پاکستان ہائی کمیشن نیروبی میں معرکہ حق کی تقریب، پاکستان زندہ باد کے نعرے، مسلح افواج کو خراج تحسین

اسپاٹیفائی کی 20ویں سالگرہ: صارفین کے لیے یادگار ‘ٹائم کیپسول’ متعارف

ویڈیو

عبدالستار ایدھی کا مجمسہ دہشتگردی کا شکار‘ مجمسہ ساز کی حکومت سے بحالی کی اپیل

خیبرپختونخوا حکومت بیڈ گورننس کا گڑھ ہے، مانسہرہ کے شہریوں کے شکوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

ایک تباہ کن جنگ: جو نہ ہو سکی

آدمی جو موٹر بند کرنا بھول گیا تھا