بھارت میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (اسپیشل انٹینسو ریویژن) مکمل کرلی ہے، جس کے نتیجے میں قریباً 91 لاکھ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: بھارت کا ایک اور فالس فلیک ڈرامہ بے نقاب، مودی سرکار اور گودی میڈیا تذبذب کا شکار
یہ نظرثانی 2025 کے آخر میں شروع ہوئی اور اپریل 2026 کے اوائل میں مکمل ہوئی، جبکہ انتخابات بھی اپریل میں مرحلہ وار شیڈول ہیں۔ اس عمل کے بعد ریاست میں ووٹرز کی مجموعی تعداد قریباً 7 کروڑ 66 لاکھ سے کم ہو کر 6 کروڑ 75 لاکھ رہ گئی، جو لگ بھگ 12 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا، اور حذف کیے گئے ناموں میں مسلمانوں کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگرچہ مغربی بنگال کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب قریباً 27 فیصد ہے، لیکن خارج کیے گئے ووٹرز میں ان کا حصہ 34 فیصد تک رہا، جو مبینہ طور پر امتیازی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔
مرشدآباد، مالدہ، شمالی 24 پرگنہ، نندی گرام اور بھابانی پور جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین بتائی گئی، جہاں بعض اطلاعات کے مطابق حذف کیے گئے ناموں میں مسلمانوں کا تناسب 40 سے 95 فیصد تک رہا۔
مزید پڑھیں: عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نظرثانی کا عمل جلد بازی، شفافیت کی کمی اور خامیوں کا شکار تھا، جس کے باعث ایسے افراد بھی متاثر ہوئے جن کے پاس درست دستاویزات موجود تھیں، جن میں طویل عرصے سے مقیم شہری، خاندان، سرکاری ملازمین اور سابق فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔














