صومالیہ کے قریب سمندری حدود میں قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے جہاز کے عملے کو یرغمال بنا لیا، جن میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
مغوی پاکستانی شہری امین بن شمس کا ایک آخری پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ جذباتی انداز میں اپنے اہلخانہ سے مخاطب ہوتے ہوئے
آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ امین کا پیغام میں کہنا تھا کہ ابو ہمیں بحری لٹیروں نے پکڑ لیا اور یہ میرا آخری پیغام ہے اور کیا پتہ میں آپ سے اب بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ مارنے کے لیے لے کر جا رہے ہیں۔ ابو مجھ سے کوئی بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیجیے گا۔
I request government of Pakistan to help these people!!! It's SO painful. HELP THEM? @GovtofPakistan pic.twitter.com/dGcLTHk6oI
— Komal Shahid (@ArmedWithWords) April 27, 2026
امین کا پیغام میں مزید کہنا تھا کہ میرے لیے دعا کریے گا، عائشہ اور بچوں کا خیال رکھیے گا، انہیں پڑھا لیجیے گا اور آپ دل مضبوط کر لیجیے گا۔ خدا حافظ۔
سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے اپیل کی کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے۔ اداکارہ سبینہ فاروق نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہاں جائیں؟ کس سے انصاف مانگیں؟ دل ہی نہیں بچا اب۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ قزاقوں کے قبضے کے بعد سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ جہاز عمان سے فجیرہ جا رہا تھا۔ حکومت کی جانب سے تاحال کوئی مدد نہیں ملی لیکن گورنر سندھ نے فون پر رابطہ کرکے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مغویوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ امین شمس دو بچوں کے والد ہیں جن میں 3 سال کی بیٹی اور 4 ماہ کا بیٹا شامل ہے۔ دیگر مغویوں میں سید کاشف، عمران اور حسین شامل ہیں، جو اپنے پیچھے کئی کم عمر بچے چھوڑ گئے ہیں۔ اہلخانہ شدید اضطراب میں اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔
یاد رہے کہ اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا، جہاز کے عملہ میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں۔














