ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں پانی تک رسائی کو منظم انداز میں محدود کر رہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ محرومی فلسطینی آبادی کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بچے قوتِ گویائی سے کیوں محروم ہو رہے ہیں؟
ادارے نے ’واٹر ایز اے ویپن‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ شہری آبی ڈھانچے کی تباہی اور ضروری سامان کی مسلسل بندش اجتماعی سزا کے ایک وسیع تر نمونے کا حصہ ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ اقدامات علاقے میں جان بوجھ کر تباہ کن اور غیر انسانی حالات مسلط کرنے کے مترادف ہیں۔
ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ پانی کی یہ مصنوعی قلت جاری تشدد کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہی ہے جس میں شہریوں پر حملے، گھروں کی تباہی اور صحت کے نظام کا انہدام شامل ہے۔
یہ نتائج سال 2024 اور سال 2025 کے دوران جمع کیے گئے شواہد اور آپریشنل ڈیٹا پر مبنی ہیں جیسا کہ اے ایف پی نے رپورٹ کیا۔
ایم ایس ایف کی ایمرجنسی کوآرڈینیٹر کلیئر سان فلیپو نے کہا کہ اسرائیلی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر بقا ممکن نہیں اس کے باوجود پانی کے بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے جبکہ ضروری سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ کے تقریباً 90 فیصد پانی اور صفائی کے نظام یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا غیر فعال ہو گئے ہیں۔
نمکین پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس، کنویں، پائپ لائنیں اور سیوریج نظام شدید متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث بڑی آبادی صاف پانی تک قابلِ اعتماد رسائی سے محروم ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیے: غزہ کے ملبوں میں محبت کی روشنی، 300 جوڑوں کا اجتماعی نکاح امید کی داستان بن گیا
ایم ایس ایف نے ایسے واقعات بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے جن میں امدادی اداروں کے واضح نشان زد پانی کے ٹرکوں اور کنوؤں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا یا تباہ کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق پانی حاصل کرنے کی کوشش کے دوران شہری زخمی اور ہلاک بھی ہوئے۔
مشکلات کے باوجود ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں پینے کے پانی کی فراہمی کرنے والے بڑے اداروں میں شامل ہے اور مقامی حکام کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران تنظیم نے روزانہ 5.3 ملین لیٹر سے زائد پانی فراہم کیا، جو تقریباً 4 لاکھ 7 ہزار افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
تاہم تنظیم نے خبردار کیا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے بار بار نقل مکانی کے احکامات نے انسانی امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہماری ٹیموں کو ان علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا جہاں ہم لاکھوں افراد کو پانی فراہم کر رہے تھے۔
ایم ایس ایف کے مطابق پانی اور صفائی کے آلات بشمول ڈی سیلینیشن یونٹس، پمپ، ذخیرہ ٹینک، کلورین اور حشرات کش ادویات درآمد کرنے کی تقریباً ایک تہائی درخواستیں یا تو مسترد کر دی گئیں یا تاحال زیر التوا ہیں۔ 
تنظیم نے خبردار کیا کہ پانی کے جاری بحران، گنجان آبادی، وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے اور کمزور صحت کے نظام کے باعث متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جسے اس نے خطرناک صورتحال قرار دیا۔
ایم ایس ایف نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا کہ وہ غزہ میں پانی کی فراہمی بحال کرے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائے۔
مزید پڑھیں: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟
تنظیم نے اسرائیل کے بین الاقوامی اتحادیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں اور امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنائیں۔












