کرپشن کیس: نیب کی درخواست پر انٹرپول نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کردیے

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرپول نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر  پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے۔

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ نیب کی درخواست پر انٹرپول نے ملک ریاض اور علی ریاض کے وارنٹ جاری کیے ہیں، دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائےگا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ الزامات، نیب نے ملک ریاض کے صاحبزادے سمیت 4 افراد کو طلب کرلیا

دوسری جانب ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ کے مطابق ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال نیب نے 89 ارب روپے کی ریکوری کی، جبکہ اس وقت منی لانڈرنگ سے متعلق 37 ہائی پروفائل کیسز پر کارروائی جاری ہے۔

ان کے مطابق منی لانڈرنگ کے 4 کیسز عدالتوں سے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اس وقت نیب کے پاس 289 ریفرنسز، 205 انویسٹی گیشنز اور 745 انکوائریز زیر التوا ہیں۔

’رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 8 ہزار 563 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 8 ہزار 214 نمٹا دی گئیں جبکہ 475 پر کارروائی جاری ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف ہاؤسنگ پراجیکٹس پر تحقیقات جاری ہیں۔ سندھ میں ملیر، کورنگی، کلفٹن اور گل احمد ملز سے اراضی واگزار کرائی گئی ہے جبکہ پنجاب میں 9 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین واپس حاصل کی گئی ہے۔ واگزار زمین کی نگرانی کے لیے صوبائی سطح پر ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔

ملک ریاض کی عمر 72 برس ہے اور وہ بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ہیں جبکہ ان کے 48 سالہ بیٹے علی ریاض کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ملک ریاض اور ان کی کمپنی گزشتہ چند برسوں سے مختلف قانونی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ القادر ٹرسٹ کیس میں مفرور بھی قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ نیب نے جنوری 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ان کی حوالگی کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔ ان پر ماضی میں زمین کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق کئی الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مالی طور پر مفلوج ہوچکے، بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کررہے ہیں، ملک ریاض

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے زمین کے حصول پر سندھ حکومت کو واجب الادا رقم کی ادائیگی کا حکم بھی دیا تھا۔

اگست 2025 میں قانونی مشکلات کے پیش نظر اور بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی ممکنہ نیلامی سے قبل ملک ریاض نے ’مذاکرات اور باوقار حل‘ کی اپیل بھی کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp