بھارت کی فضائی صنعت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں 2 بڑے جھٹکوں نے بیک وقت آپریشنز کو متاثر کرتے ہوئے لاگت میں اضافہ اور ایئرلائنز کے پہلے سے کم منافع والے مارجن کو مزید محدود کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی کی غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں، بھارتی کمپنیوں کو مالی نقصان کا خدشہ
خطے میں جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس نے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں کو بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فضائی حدود کی مسلسل بندش نے بھی بھارتی ایئرلائنز کے لیے آپریشنل مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ایوی ایشن فیول عام طور پر ایئرلائنز کے آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے تاہم حالیہ اضافے کے بعد یہ شرح بعض کیسز میں 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے ایئرلائنز کے منافع کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کئی کمپنیوں کو اپنے روٹس اور فلائٹ آپریشنز پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستانی کی فضائی حدود کی بندش سے ہفتہ وار بھارت کی 800 پروازیں متاثر
اسی دوران پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہو رہی ہیں، خصوصاً وہ طویل فاصلے کی پروازیں جو بھارت کو مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا سے جوڑتی ہیں۔ اس وجہ سے پروازوں کے راستے طویل ہو گئے ہیں جس سے فیول کی کھپت، عملے کے اوقات اور دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارتی حکومت کا ہوائی جہازوں کے ایندھن میں مکمل اضافہ روکنے کا فیصلہ، ایئرلائنز کو جزوی ریلیف
بھارتی ایئرلائنزبشمول انڈیگو، ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ لاگت کا ڈھانچہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور اگر فیول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو پروازیں منسوخ یا بعض غیر منافع بخش روٹس پر آپریشن بند کیا جا سکتا ہے۔
ایئر انڈیا، جو ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے، کو صرف فضائی حدود کی بندش کے باعث سالانہ تقریباً 600 ملین ڈالر اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ دیگر ایئرلائنز بھی اسی نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں جس سے فلائٹ شیڈولنگ اور بیڑے کے مؤثر استعمال میں کمی آئی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی ایئرلائنز پہلے ہی کوویڈ 19 کے بعد کے قرضوں، کرنسی کی قدر میں کمی اور ڈالر میں ہونے والے اخراجات کے دباؤ سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انڈسٹری نمائندہ ادارے فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں فیول پر عائد ٹیکسز میں نرمی، قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ریگولیٹری سہولتیں اور یکساں فیول پرائسنگ سسٹم کا نفاذ شامل ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو یومیہ کروڑوں کا نقصان
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بھارتی ایئرلائنز کو پروازوں میں کمی، روٹس کی تنظیم نو اور کچھ بین الاقوامی آپریشنز معطل کرنے جیسے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں جس سے خطے میں فضائی رابطوں پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔













