امریکا نے آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے نئے عالمی اتحاد کی تشکیل کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے مختلف ممالک سے اس مجوزہ اتحاد میں شمولیت کی اپیل کی ہے تاکہ اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن مختلف ممالک سے اس مجوزہ اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کر رہا ہے تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت کو دوبارہ ممکن بنایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ اتحاد کو ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت رکن ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ، سفارتی سطح پر ہم آہنگی اور پابندیوں کے نفاذ میں تعاون شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ایران نے آگاہ کیا ہے کہ وہ بحران کی حالت میں ہے اور چاہتا ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کھول دیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
یہ تفصیلات امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اندرونی سفارتی مراسلے (کیبل) کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چند ہفتے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا اور کاروبار کے لیے تیار قرار دینے کے باوجود اس اہم راستے میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد امریکی انتظامیہ نے یہ نیا اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اس سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کے روز دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو ایک مراسلہ ارسال کیا، جس میں امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دیگر ممالک کو اس اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
مراسلے کے مطابق امریکا کی قیادت میں قائم ہونے والا یہ اتحاد نہ صرف معلومات کے تبادلے کو یقینی بنائے گا بلکہ سفارتی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے گا اور پابندیوں کے نفاذ میں بھی کردار ادا کرے گا، تاکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت کو بحال کیا جا سکے۔












