اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کے تحت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں قید تنہائی، طبی مسائل اور جیل انتظامات پر تفصیلی دلائل اور عدالتی ریمارکس سامنے آئے۔
سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے جاوید اشرف اور رافع مقصود پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:بنکنگ کورٹ اسلام آباد: پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں چالان مکمل، چند روز میں پیش کیے جانے کا امکان
سلمان صفدر نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 8 اپریل کو عدالت کے حکم پر ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی، تاہم 9 اپریل اور اس کے بعد پیس ٹاکس کے باعث سماعت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود 65 منٹ کی ملاقات میں بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی گئی جبکہ ان کی آخری ملاقات 20 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ وکیل کے مطابق ملاقاتوں میں بعض تشویشناک امور سامنے آئے۔
سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے بتایا ان کی 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے جبکہ 85 فیصد ختم ہو چکی ہے، اور وہ ایک آنکھ سے دیکھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق اب آنکھ کی بہتری کے امکانات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق دونوں کو طویل عرصے سے اسی صورتحال کا سامنا ہے۔
سلمان صفدر نے سوال اٹھایا کہ اڈیالہ جیل میں ایسا کون سا مسئلہ ہے جس سے دونوں کی آنکھیں متاثر ہو رہی ہیں، اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو حال ہی میں جیل سے اسپتال لے جا کر علاج کرایا گیا کیونکہ جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 16 اپریل کو جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے انہیں فون کر کے بشریٰ بی بی کی ایمرجنسی سے آگاہ کیا اور فوری پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔ وکیل نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی عدالت طلبی کی استدعا بھی کی۔
سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ 17 سماعتوں سے زیر بحث ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اس پر بات ہو چکی ہے، اور قیدیوں کے بنیادی حقوق عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔ ان کے مطابق فیصلے میں قید تنہائی کا ذکر نہیں، اس لیے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ پابندی کس بنیاد پر لگائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قید تنہائی طویل عرصے تک رکھنا ٹارچر کے زمرے میں آتا ہے اور اب معاملہ آئی جی جیل خانہ جات، جیل سپرنٹنڈنٹ اور الشفا کے ڈاکٹروں کی طلبی تک پہنچ چکا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اپیل پر دلائل دیے جائیں اور بتایا کہ عدالت اپیل سننے کے لیے تیار ہے اور جلد فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے اپیل نمٹائی جا سکتی ہے۔
سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں ہدایت ہے کہ پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیے جائیں، جبکہ اپیلوں پر دلائل کے لیے دیگر وکلاء بھی آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیب کو سزا معطلی پر اعتراض نہیں تو واضح کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تمام فائلیں مکمل طور پر پڑھنے کے بعد ہی مطمئن ہوں گے اور عدالت سے ریلیف کی استدعا کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہیں اپیل پر دلائل کے لیے نہیں رکھا گیا، جس پر وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:فارن فنڈنگ کی طرح توشہ خانہ کیس بھی ختم ہو جائے گا : عمران خان
عدالت نے کہا کہ اگر اپیل کے لیے دس دن کی تیاری درکار ہے تو شیڈول دیا جائے، جبکہ طے شدہ اصول کے مطابق اپیل مقرر ہونے کے بعد سزا معطلی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اکثر اعتراض کرتے ہیں اور سلام کرنا چاہتے ہیں، جس پر وہ وعلیکم اسلام کہتے ہیں۔
سماعت کے اختتام پر بینچ چیمبر میں چلا گیا اور عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر بعد میں حکم جاری کیا جائے گا۔














