بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی اور ملک میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق، عزت اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز ڈھاکہ سیکرٹریٹ میں بدھ مت برادری کے نمائندوں سے بدھا پورنیما کے موقع پر ملاقات اور تبادلۂ تحائف کے دوران کہی۔ اس موقع پر کمیونٹی نمائندوں نے وزیراعظم کو یادگاری شیلڈ اور بدھا کا علامتی مجسمہ بھی پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس کی رہائی کھٹائی میں کیوں پڑ گئی؟
وزیراعظم نے کہا کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری تمام شہریوں کے حقوق اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے اور سب کو زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔
طارق رحمان نے بدھ مت کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کے بدھ مت ماننے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب امن، برداشت اور انسانیت کی بھلائی کا درس دیتے ہیں۔ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدم تشدد، سچائی اور ہمدردی جیسے اصول ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی قوانین کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری بھی ایک پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کی ضمانت بن سکتی ہے۔ حکومت ہر شہری کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کا مکمل ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی آزادی کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے مل کر ایک پرامن اور متحد بنگلہ دیش کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے مطابق یہ ملک سب کا ہے اور اس پر سب کا برابر حق ہے۔
انہوں نے بنگلہ دیشی قومیت” کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مذہبی اور نسلی برادریوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ خود کو اقلیت نہ سمجھیں بلکہ سب کو ایک ہی قومی شناخت یعنی بنگلہ دیشی کے طور پر دیکھیں۔
اس موقع پر اعلیٰ حکومتی وزرا، سرکاری حکام اور بدھ مت برادری کے نمائندے بھی موجود تھے۔














