بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس کی رہائی کھٹائی میں کیوں پڑ گئی؟

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے 81 سالہ سابق چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کے خلاف درج 7 مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی نہ تو فرد جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی سزا سنائی گئی ہے، اس کے باوجود وہ گزشتہ 280 دنوں سے جیل میں قید ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس تاحال سابق چیف جسٹس کیخلاف کسی بھی مقدمے میں چالان پیش نہیں کر سکی ہے۔

منگل کے روز بنگلہ دیش کی اپیلیٹ ڈویژن نے 5 مقدمات میں ان کی ضمانت برقرار رکھی، تاہم ان کی رہائی اب بھی غیر یقینی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں 2 بنگلہ دیشی طلبا کے قتل پر بنگلہ دیش کا فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

انہیں گزشتہ جولائی کی عوامی تحریک سے منسلک قتل کے 2 الگ الگ مقدمات میں بھی گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔

ان میں سے ایک مقدمہ جاتراباری پولیس اسٹیشن اور دوسرا آدابور پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔

30 مارچ کو ڈھاکہ کی ایک میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے پولیس کی درخواست پر ان مقدمات میں ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: توانائی بحران نے بنگلہ دیش کی صنعتوں کو جکڑ لیا، پیداوار میں 24 فیصد کمی

رپورٹس کے مطابق خیرالحق دل کے مرض، ذیابیطس اور عمر سے متعلق دیگر طبی مسائل کا شکار ہیں۔

ان کے وکلا نے 2016 میں صحافی شفیق رحمان کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ کسی ملزم کو صرف زیرِ حراست رکھنے کے لیے ضمانت سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تحت ضمانت دیتے وقت ملزم کی عمر اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔

رواں سال 8 مارچ کو ہائیکورٹ نے انہیں 4 مقدمات میں مستقل ضمانت دی تھی، جبکہ 11 مارچ کو انہوں نے انسدادِ بدعنوانی کمیشن کے ایک مقدمے میں بھی ضمانت حاصل کی۔

شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے تقریباً ایک سال بعد خیرالحق کو گزشتہ سال 24 جولائی کو ڈھاکہ کے علاقے دھان منڈی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں جولائی کی احتجاجی تحریک کے دوران قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔ ایک مقدمہ جُوبو دل کے کارکن عبدالقیم احد کے قتل سے متعلق ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی حساس تنصیبات پر حملوں کا خدشہ،  ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ جاری

دیگر مقدمات میں نگران حکومت کے نظام کو ختم کرنے والے عدالتی فیصلے میں مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات شامل ہیں۔

یہ شکایات سپریم کورٹ کے وکیل مجاہدالاسلام شاہین نے شاہ باغ پولیس اسٹیشن میں درج کروائیں، جبکہ بعد ازاں نرائن گنج کے فتح اللہ اور بندر پولیس اسٹیشنز میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے۔

ہائیکورٹ نے جعلسازی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ متنازعہ فیصلہ اپیلیٹ ڈویژن کے بینچ کا اکثریتی فیصلہ تھا اور اس حقیقت پر کوئی اختلاف نہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے علاقے کھلنا میں شدید گرمی کی لہر، بجلی کی قلت سے مشکلات میں اضافہ

خیرالحق 30 ستمبر 2010 سے 17 مئی 2011 تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔

ان کی سربراہی میں 10 مئی 2011 کو اپیلیٹ ڈویژن نے آئین کی 13ویں ترمیم کو کالعدم قرار دیا، جس کے تحت 1996 میں نگراں حکومت کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔

اس فیصلے کا مکمل متن ان کی ریٹائرمنٹ کے تقریباً 16 ماہ بعد ستمبر 2012 میں جاری کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 1950 کی دہائی کا نایاب 100 روپے کا نوٹ بنگلہ دیش سے پاکستان واپس آ گیا

بعد ازاں 20 نومبر گزشتہ سال ایک اور اپیلیٹ ڈویژن بینچ نے 2 اپیلیں اور 4 نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 2011 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

اس فیصلے کا مکمل متن رواں سال 15 مارچ کو جاری کیا گیا۔

خیرالحق نے 2005 میں ہائیکورٹ کے بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے 5ویں آئینی ترمیم کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے ذریعے 15 اگست 1975 سے 9 اپریل 1979 تک کی حکومتوں کو قانونی حیثیت دی گئی تھی، جن میں سابق صدر ضیا الرحمان کا اقتدار سنبھالنا بھی شامل تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp