امریکا میں محکمہ داخلی سلامتی کا 75 روزہ ریکارڈ طویل شٹ ڈاؤن بالآخر ختم ہو گیا، جب کانگریس نے فنڈنگ بل کی منظوری دے دی جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کر دیے۔
ایوانِ نمائندگان نے سینیٹ سے منظور شدہ بل کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ داخلی سلامتی کے متعدد اداروں بشمول فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی، کوسٹ گارڈ، ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن اور سیکرٹ سروس کے لیے ستمبر کے اختتام تک فنڈنگ بحال کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں شٹ ڈاؤن سے زندگی مفلوج، 1500 سے زائد پروازیں منسوخ
تاہم اس بل میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور بارڈر پیٹرول کے لیے نئی فنڈنگ شامل نہیں کی گئی، جس پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ شٹ ڈاؤن کے دوران ان اداروں کو ہنگامی فنڈز کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔
محکمہ داخلی سلامتی کے سیکریٹری مارک وین ملن نے خبردار کیا تھا کہ اگر بروقت فنڈنگ نہ ملی تو ہزاروں ملازمین تنخواہوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بل کی منظوری ایک اہم ڈیڈ لائن سے عین پہلے دی گئی۔

اسی دوران کانگریس نے غیر ملکی نگرانی کے پروگرام FISA سیکشن 702 میں بھی 45 روزہ توسیع کی منظوری دی، جسے قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بل پر بھی دستخط کر دیے۔
یہ شٹ ڈاؤن فروری میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈیموکریٹس نے امیگریشن پالیسی میں اصلاحات کا مطالبہ کیا، جسے ریپبلکنز نے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں بجٹ قرارداد کے ذریعے آئندہ تین سال کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ، سیاسی کشمکش جاری
شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے نہ صرف ہزاروں سرکاری ملازمین کو ریلیف ملے گا بلکہ ہوائی اڈوں اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی سروسز بھی معمول پر آ جائیں گی۔













