وزیراعظم پاکستان شہباز شریف جاتی امرا پہنچ گئے جہاں انہوں نے قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے تنازع اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی موجود تھیں۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے نواز شریف کو ملک کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا اور سیاسی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے بھی نواز شریف کو آگاہ کیا۔
مشرق وسطیٰ تنازع جو 2 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ اگرچہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے 2 ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں وقفہ آیا، جو بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا، تاہم اس کے اثرات اب بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف رہی ہے۔ 11 اور 12 اپریل کو پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں بعد پہلا اعلیٰ سطح رابطہ کروایا، جسے اسلام آباد مذاکرات کہا گیا۔
بعد ازاں دوسرے دور کے انعقاد میں مشکلات کے باعث پاکستان نے سہولت کار کے کردار کو جاری رکھا۔
اسی دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران پیدا ہوا، کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل و گیس کی ترسیل اس راستے سے ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
وزیراعظم نے نواز شریف کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔













