ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے ایشیا پیسیفک خطے میں توانائی کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل رسائی میں اضافے کے لیے 2035 تک 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا عالمی اقدام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سرحد پار بجلی کی تجارت کو فروغ دینا اور خطے کے ممالک کے درمیان براڈ بینڈ رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے 3.67 ارب ڈالر امداد کا اعلان
ثمرقند میں بینک کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی سیشن کے دوران کیے گئے اس اعلان کے مطابق، مجموعی رقم میں سے 50 ارب ڈالر ‘پین ایشیا پاور گرڈ انیشی ایٹو’ جبکہ 20 ارب ڈالر ‘ایشییا پیسیفک ڈیجیٹل ہائی وے’ پروجیکٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
بینک کے صدر ماساٹو کانڈا کا کہنا ہے کہ توانائی اور ڈیجیٹل رسائی ہی اس خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی، ان منصوبوں سے بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی اور کروڑوں لوگوں کو ترقی کے نئے مواقع ملیں گے۔
اس منصوبے کے تحت مختلف ممالک کے قومی پاور سسٹمز کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا تاکہ قابلِ تجدید توانائی سرحد پار منتقل ہوسکے۔ اس اقدام سے پاکستان جیسے ممالک مستفید ہوسکتے ہیں جو بجلی کی پیداواری صلاحیت کے باوجود ترسیلی مسائل کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت کے بارے میں کیا پیشگوئی کی گئی ہے؟
پاکستان جغرافیائی طور پر اس مقام پر ہے جہاں علاقائی تعاون اور سمارٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے بجلی کی کمی کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے، تاہم تکنیکی اور سفارتی بنیادوں پر اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا جانا ابھی باقی ہے۔
اس اقدام کے ذریعے 2035 تک خطے میں 20 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کو سرحد پار منتقل کرنے، 22 ہزار کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے اور 20 کروڑ افراد تک بجلی پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے مختص 20 ارب ڈالر کی رقم سے فائبر نیٹ ورکس، سیٹلائٹ لنکس اور ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ سیول (جنوبی کوریا) میں ‘سینٹر فار اے آئی انوویشن اینڈ ڈیولپمنٹ’ کا قیام ہے، جو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذمہ دارانہ استعمال اور خطے کے 30 لاکھ افراد کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے میں مدد دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دے گا
اے ڈی بی کے مطابق اس منصوبے سے دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی لاگت میں 40 فیصد تک کمی آئے گی اور 2035 تک خطے میں تقریباً 40 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بینک اس خطیر رقم کا بڑا حصہ اپنے وسائل سے فراہم کرے گا جبکہ باقی رقم نجی شعبے اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے جمع کی جائے گی۔














