عالمی ادارہ صحت کے مطابق 3 مئی کو بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر سوار 3 افراد ہنٹا وائرس کے مشتبہ انفیکشن کے باعث ہلاک ہو گئے۔
ہنٹا وائرس چوہوں سے پھیلنے والا وائرس ہے جو مہلک سانس کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اب تک ہنٹا وائرس کے ایک کیس کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید 5 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں نیپاہ وائرس سے نرس جاں بحق
متاثرہ 6 افراد میں سے 3 ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک اس وقت جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔
امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے کو دیے گئے بیان میں نیدرلینڈز میں قائم کروز کمپنی اوشین وائیڈ ایکسپیڈیشن نے کہا کہ جہاز ایم وی ہونڈیئس پر ایک ’سنگین طبی صورتحال‘ سے نمٹا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق مذکورہ جہاز ارجنٹائن سے کیپ وردے جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں: نپاہ وائرس کی پاکستان منتقلی کا خدشہ، داخلی راستوں پر سخت اسکریننگ
’اس سفر کے دوران 3 مسافر انتقال کر گئے۔ ان میں سے 2 اموات جہاز پر ہوئیں جبکہ ایک مسافر جہاز سے اترنے کے بعد انتقال کر گیا۔‘
اس کے علاوہ ایک مسافر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے جبکہ 2 افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ڈچ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ مرنے والوں میں 2 ڈچ شہری شامل ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
BREAKING: The Foreign Office says it is in touch with a cruise company after reports of a hantavirus outbreak on a cruise ship in the Atlantic Ocean which has left three people dead.
Read the latest on our live blog🔗 https://t.co/9vZi3yero2
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 pic.twitter.com/wTy05pbg2L
— Sky News (@SkyNews) May 3, 2026
کمپنی نے کہا کہ انفیکشن کی وجہ کا تعین کیا جا رہا ہے، تاہم ایک مسافر میں ہنٹا وائرس کی ایک قسم کی نشاندہی ہوئی ہے جسے طبی بنیادوں پر جہاز سے منتقل کیا گیا تھا۔
کمپنی کے مطابق فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ 3 اموات کا تعلق ہنٹا وائرس سے ہے، اور جہاز پر موجود دیگر 2 مریضوں میں بھی اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت اس وبائی صورتحال کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ہنٹا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہنٹا وائرس وائرسز کا ایک گروہ ہے جو سنگین بیماری اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ وائرس عموماً چوہوں کے پیشاب، فضلے یا تھوک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ کم صورتوں میں کاٹنے یا خراش سے بھی پھیل سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرچہ یہ نایاب وائرس ہے، مگر بعض صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے اور شدید سانس کی بیماری کا باعث بنتا ہے، جس کے لیے مریض کی کڑی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
ہنٹا وائرس کی علامات کیا ہیں؟
سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہنٹا وائرس ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم یعنی ایچ پی ایس جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اورگردوں کو متاثر کونیوالی ہیمرجک فیور ود رینل سنڈروم جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
ایچ پی ایس کی علامات میں تھکن، بخار، پٹھوں میں درد، سر درد، چکر، سردی لگنا اور پیٹ کے مسائل شامل ہیں، جبکہ بعد میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور سینے میں جکڑن ہو سکتی ہے۔
ایچ ایف آر ایس کی علامات میں شدید سر درد، کمر اور پیٹ درد، بخار، متلی، دھندلا نظر آنا، چہرے کا سرخ ہونا، آنکھوں کی سوزش اور خارش شامل ہیں، جبکہ بعد میں بلڈ پریشر میں کمی، شدید جھٹکا، اندرونی خون بہنا اور گردوں کی ناکامی ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ملک بھر کے 46 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی، سندھ سب سے آگے
عالمی ادارہ صحت نے اس واقعے میں وائرس کی مخصوص قسم واضح نہیں کی، تاہم سانس کے مسائل کے خطرے کا ذکر کیا ہے۔
سینٹر فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم میں مبتلا افراد میں شرح اموات تقریباً 38 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
جبکہ ہیمرجک فیور ود رینل سنڈروم میں یہ شرح وائرس کی قسم کے مطابق 1 فیصد سے 15 فیصد تک ہو سکتی ہے۔














