امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی مدد کے لیے ایک کوشش شروع کرے گا، خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز کمی دیکھی گئی۔
تاہم امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی عدم موجودگی نے مارکیٹ کو اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کے فیوچر 6 سینٹ یا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 108.11 ڈالرفی بیرل پر آ گئے، جبکہ جمعہ کے روز ان میں 2.23 ڈالر کی کمی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی: تجارتی نقل و حمل میں رکاوٹوں سے غریب ممالک زیادہ متاثر، اقوام متحدہ
امریکی خام تیل کروڈ آئل 101.50 ڈالر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ آئل فی بیرل پر تھا، جو 44 سینٹ یا 0.4 فیصد کم ہوا، اس سے پہلے جمعہ کو اس میں 3.13 ڈالرکی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق وسیع تر مارکیٹ مسلسل سپلائی میں رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مضبوط دباؤ میں ہے، جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی ترسیل بحال نہیں ہوتی، تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔
Crude slips nearly 3% as Donald Trump signals relief in #StraitOfHormuz; Brent at $107.51, WTI at $99.11. https://t.co/80VFfpBe1T
— National Herald (@NH_India) May 4, 2026
امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی کرے گا، تاہم تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں کیونکہ امن معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے اور اس اہم سمندری راستے سے شپنگ بدستور متاثر ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتے کے آخر میں بھی جاری رہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کے جوابات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: موجودہ توانائی بحران سنگین ترین ہے، عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ کی وارننگ
ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو اپنی ترجیح قرار دیتے ہیں، تاہم ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات جنگ کے بعد ہوں اور پہلے خلیجی شپنگ پر عائد رکاوٹیں ختم کی جائیں۔
اتوار کو اوپیک پلس نے اعلان کیا کہ وہ جون میں 7 رکن ممالک کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف میں 1,88,000 بیرل یومیہ اضافہ کرے گا، جو مسلسل تیسرا ماہانہ اضافہ ہے۔
مزید پڑھیں: مقامی ڈیزل ریفائنریز کی درآمدی قیمت پر ادائیگوں سے متعلق سوشل میڈیا پر من گھڑت دعوے
یہ اضافہ مئی کے فیصلے کے برابر ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کی حصہ داری کے بغیر ہے کیونکہ وہ 1 مئی کو اوپیک سے الگ ہو گیا تھا۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافی پیداوار عملی طور پر اس وقت تک محدود رہے گی جب تک ایران جنگ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو متاثر کرتی رہے گی۔














