سپریم کورٹ میں 2 خواتین سمیت 3 افراد کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ 4 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے ایک کو پھانسی ہو چکی ہے جبکہ 3 ملزمان اس وقت عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ مدعی کے ساتھ صلح نامہ بھی فائل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: عدالتوں میں اے آئی کے استعمال کی منظوری، سپریم کورٹ نے قومی گائیڈ لائنز جاری کر دیں
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ ایک بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی مگر سزا پورے خاندان کو مل گئی۔ انہوں نے کہا کہ راضی نامہ تو کرنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے ہی قتل ہو چکا تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر راضی نامہ کرنا تھا تو ٹرائل کورٹ میں دائر کیا جاتا، سپریم کورٹ کو اس میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملزم نے گولی ماری جبکہ دوسرے نے قتل کیا۔
بینچ کے ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت راضی نامہ منظور کیا جائے، جب ایک ملزم پہلے ہی سزائے موت کاٹ چکا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مدعی نہ خود عدالت میں موجود ہے، نہ بائیو میٹرک اور نہ ہی کوئی حتمی بیان حلفی موجود ہے، اس صورت میں راضی نامہ کیسے ممکن ہے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گریڈ ایک تا 15 کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے راضی نامہ جمع نہیں کروایا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے ملزم رمضان کی عمر قید کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ کیس 2008 کا ہے جس میں 4 ملزمان نے 3 افراد کو قتل کیا تھا، جن میں سے ایک کو سزائے موت ہو چکی ہے جبکہ باقی 3 عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔













