بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر کیمپ میں فائرنگ کے واقعے میں ایک اہم شدت پسند رہنما کے بھائی کی ہلاکت نے سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روہنگیائی شہری محمد کمال، جو مبینہ طور پر روہنگیا کے شدت پسند رہنما نبی حسین کے چھوٹے بھائی تھے، بدھ کے روز کاکس بازار کے علاقے میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں مسلح تصادم کے دوران ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے ایک بار پھر روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر عالمی تعاون کی اپیل کردی
یہ واقعہ اوکھیا کے کیمپ 8 ایسٹ میں پیش آیا، جہاں دو مسلح گروہوں کے درمیان مبینہ طور پر علاقے پر کنٹرول کے تنازع پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام کے مطابق محمد کمال کو گولیاں لگنے کے بعد شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق محمد کمال کا تعلق اراکان روہنگیا آرمی سے تھا، جسے نبی حسین گروپ بھی کہا جاتا ہے۔
محمد اسد الزمان، جو 8 آرمڈ پولیس بٹالین کے کمانڈر ہیں، نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ابتدائی طور پر ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے برطانیہ سے پولیس اصلاحات اور روہنگیا مسئلے میں تعاون کی درخواست کردی
بعد ازاں اسپتال پولیس اہلکار سیف الاسلام نے تصدیق کی کہ زخمی شخص کو انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا اور وہ پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد مہاجر کیمپ میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مزید تصادم کو روکا جا سکے۔














