کتابوں کا عاشق افسانہ نگار

جمعرات 7 مئی 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممتاز افسانہ نگار غلام عباس کے ایسے کئی قصے تحریری صورت میں محفوظ ہیں کہ وہ پرانی کتابوں کی کھوج میں سرگرداں رہتے تھے، ان قصوں کے راوی بڑے ثقہ ہیں۔

ان میں وہ حضرات بھی ہیں جو ان کی تگ و تاز کے عینی شاہد رہے اور وہ بھی جنہوں نے غلام عباس کی جستجو کے حاصلات کو دیکھا اور ان سے استفادہ بھی کیا تھا۔

ان شخصیات میں سب سے اہم نام معروف نقاد محمد حسن عسکری کا ہے۔

سنہ 1937 میں غلام عباس لاہور سے دلی چلے گئے تھے جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے رسالے ’آواز‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ دلی میں ان کے پرانے یاروں میں پطرس بخاری موجود تھے۔ ن م راشد سے ان کی لاہور میں جان پہچان تھی، وہ آل انڈیا ریڈیو دلی سے وابستہ ہوئے تو ان کے ساتھ دوستی ہوگئی۔

دلی میں غلام عباس کے حلقہ احباب میں سب سے قیمتی اضافہ محمد حسن عسکری کی صورت میں ہوا جن سے تقسیم سے پہلے کے تین چار سال ان کی متواتر ملاقات رہی۔

سنہ 1954 میں عسکری صاحب نے غلام عباس کے خاکے میں دلی میں گزرے دنوں کو یاد کیا اور بتایا کہ غلام عباس باقاعدگی سے جامع مسجد کے پاس کباڑ کی دکانوں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ نایاب کتابیں ڈھونڈتے اور پھر ایک خاص کبابی سے کباب کھلا کر تواضع کرتے تھے۔ دونوں رات کو لمبی سیر پر نکلتے جس کے دوران دونوں مستقبل کے تخلیقی منصوبوں کے خاکے تیار کرتے تھے۔

اس سیر کے دوران غلام عباس نے بہت سے ایسے افسانوں کے پلاٹ عسکری کو سنائے تھے جنہیں آنے والے برسوں میں انہوں نے مکمل کیا۔ محمد حسن عسکری نے غلام عباس کے ذخیرہ کتب کے بارے میں لکھا:

’دلی میں عباس صاحب کے پاس انگریزی اور اردو کتابوں کا بڑا نفیس ذخیرہ تھا اور وہ اپنی کتابوں کو بڑے لاڈ سے رکھتے تھے۔ اس زمانے میں کتابیں پڑھنے اور مانگنے والے بہت تھے لیکن عباس صاحب اپنی کتاب کسی کو ذرا مشکل سے دیتے تھے، البتہ اس معاملے میں وہ میرے مستقل ساہو کار تھے۔‘

فکشن نگار پریم ناتھ در کی صحافت کے ساتھ ساتھ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستگی رہی تھی، ان کے غلام عباس پر خاکے میں بھی کتابوں کا حوالہ موجود ہے:

’ان کے پاس ہزاروں کتابیں ہیں جنہیں انہوں نے بڑی کاوش سے جمع کیا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ کتابوں کے پرانے خریدار ہیں۔ مشہور مصنفوں کی بڑی بڑی کتابیں نہ جانے کہاں سے نکال لاتے ہیں۔ سب کی سب کتابیں الماریوں میں بڑے قرینے سے رکھی رہتی ہیں۔ بیشتر کتابیں انگریزی کی ہیں لیکن ان ہی کے دوش بدوش اپنی دیسی کتابیں بھی کم تعداد میں نہیں۔‘

دلی کے بعد اب کراچی آجاتے ہیں، اس شہر میں غلام عباس کی پرانی کتابوں میں دلچسپی برقرار رہی۔ اس کی گواہی معروف شاعر سحر انصاری کے مضمون ’غلام عباس— چند یادیں‘ سے ملتی ہے۔

سحر انصاری کی صدر ریگل چوک میں پرانی کتابوں کے مرکز پر غلام عباس سے ملاقات ہوتی تھی۔

ان کے بقول ’وہ پابندی سے وہاں آتے اور بڑے شغف اور انہماک سے وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتابوں کی خریداری کرتے تھے۔ تاریخ، فکشن اور سماجی علوم کی کتابیں زیادہ تر منتخب کرتے تھے۔‘

سحر انصاری نے ریگل چوک پر پرانی کتابوں کے ایک بیوپاری ماسٹر اقبال کا ذکر کیا ہے جن کے پاس ایک دفعہ وویکا نند لائبریری کی کتابیں فروخت ہونے کے لیے آئی تھیں۔ اس ’لاٹ‘ میں چار جلدوں پر مشتمل تاریخ کی ایک اہم کتاب بھی تھی۔ اس کی پہلی اور تیسری جلد سحر انصاری کے ہاتھ لگی جبکہ دوسری اور چوتھی جلد غلام عباس نے خرید لی۔ دونوں خریداروں پر حقیقت کھلی تو طے پایا کہ چاروں جلدیں کسی ایک کے پاس ہونی چاہییں۔ سحر انصاری نے اپنی کتابیں غلام عباس کی نذر کرکے ان کا دل جیت لیا۔ وہ سحر انصاری کے اس ایثار کا تذکرہ بعد میں بھی کرتے رہے۔ سحر صاحب کہتے یہ کون سی بڑی بات ہے تو غلام عباس کا جواب ہوتا:

’نہیں بھائی! اس طرح کا دل گردہ بھی ہر ایک میں نہیں ہوتا اور وہ بھی کتابوں کے معاملے میں۔‘

سنہ 2014 میں کراچی میں غلام عباس کی کتاب ’جزیرہ سخنوراں‘ اور ان کے افسانوں کے انتخاب کی تقریب رونمائی میں ان کی بیٹی مریم شیرا نے حاضرین کو بتایا کہ غلام عباس بندر روڈ پر اپنے بچوں کے ہمراہ پرانی کتابیں خریدنے جاتے تھے اور دکانداروں سے بھاؤ تاؤ کرتے تھے جو انہیں چاچا جی کہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کتابوں کو حروف تہجی کے بجائے حجم کے حساب سے رکھتے تھے۔ مریم شیرا کے مطابق ان کے والد کے پاس 20 ہزار کتب تھیں۔

ڈاکٹر آفتاب احمد نے ’بیادِ صحبت نازک خیالاں‘ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ غلام عباس کے زیرِ تعمیر گھر گئے جہاں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ منتقل ہوچکے تھے۔ میاں بیوی کی جس کمرے میں سکونت تھی اس کے بارے میں وہ اپنا مشاہدہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:

’چارپائی پر کرس اور عباس بیٹھ گئے اور میرے لیے انہوں نے سامنے رکھے ہوئے ایک بکس پر جگہ بنادی۔ کمرے کے ایک طرف بڑا سا ٹرنک رکھا تھا جو کرس اپنے ساتھ لائی تھیں۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ عباس صاحب کی وہ پرانی نایاب کتابیں چن دی گئی تھیں جو ان کی عمر بھر کی کمائی تھی اور جو انہوں نے برسوں میں لاہور، دلی، کراچی اور لندن کے کباڑیوں کے ہاں سے خریدی تھیں۔ یہ عباس صاحب کا خاص شوق تھا۔‘

غلام عباس کتابوں کی سچے متلاشی تھے۔ ان کی اس محنت کا پھل دوست یار بھی کھاتے تھے۔ وہ ان کے مطلب کی تصانیف ڈھونڈنے میں بھی مستعد تھے۔ امتیاز علی تاج نے ان کے نام خط میں لکھا :

’ایک زمانے میں آپ نے لاہور کے کسی کباڑیے کے ہاں سے مجھے بہت سے ڈرامے لا دیے تھے۔ آپ کی یہ محنت ڈرامے منتخب کرنے میں میرے بہت کام آئی۔ بڑے اچھے وقت آپ نے یہ قابل قدر ذخیرہ مجھے فراہم کردیا۔ جی چاہتا ہے آپ کی اس نوازش کا پھر شکریہ ادا کروں۔‘

معروف مصنف اور مترجم ستار طاہر کو کراچی میں غلام عباس کے ہاں رہنے اور ان کی لائبریری دیکھنے کا موقع ملا تھا۔

اپنے مضمون ’غلام عباس کی یادیں‘ میں انہوں نے لکھا کہ لیوگی پرآندیلو کے افسانوں کے غلام عباس بہت قائل تھے۔ ستار طاہر ڈراما نگار کے طور پر اس مصنف سے واقف تھے لیکن اس کے افسانے کراچی میں غلام عباس کے ہاں قیام کے دوران ان کی نظر سے پہلی دفعہ گزرے۔

آصف فرخی سے انٹرویو میں بھی غلام عباس نے پرآندیلو کی بڑی تعریف کی ہے جس کے افسانوں میں ان کے بقول ’روزمرہ انسانی زندگی پوری گہرائی سے جلوہ گر ہوتی ہے۔‘ غلام عباس نے اس کے افسانے کا ’زہریلی مکھی‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا اور ساتھ میں اس خواہش کا اظہار بھی کہ کاش وہ بھی اس طرح کے دو چار افسانے لکھ سکیں۔

غلام عباس شطرنج شوق سے کھیلتے تھے۔ مرزا ظفر الحسن سے انٹرویو میں انہوں نے اس فن میں طاق ادیبوں کا تذکرہ کیا ہے اور سب سے زیادہ ناصر کاظمی کی تعریف کی جنہیں وہ اپنے وقت کا استاد قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول ’اسے چال ایسی سوجھتی تھی کہ سبحان اللہ۔‘ شطرنج کے بارے میں کتابیں پڑھنے میں بھی انہیں دلچسپی تھی۔ اس موضوع پر تازہ بہ تازہ کتابیں بھی زیر مطالعہ رہتی تھیں۔

انہوں نے مرزا ظفر الحسن کو ڈیوڈ لیوی اور سٹیورٹ ریوبن کی کتاب ’دی چیس سین‘ دکھائی تھی جو ان کے سسر نے انگلینڈ سے بھیجی تھی۔

غلام عباس کی کتابوں سے وابستگی کے بارے میں دوسروں کی آرا تو آپ دیکھ چکے ہیں، اس باب میں ان کا ایک بیان بھی ملاحظہ کر لینا چاہیے جو ان کے مشاغل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب کی صورت میں سامنے آیا تھا:

’مجھے باغبانی، نایاب اور ہر پرانی کتاب کا پہلا ایڈیشن جمع کرنے، موسیقی سننے اور بچے پالنے کا شوق ہے۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے مجھے دلچسپی رہتی ہے۔ مجھے خوشبو دار پھول پسند ہیں اور صورت شکل میں کنول کا پھول۔ ایک نایاب کنول کا پودا بڑی مصیبتوں سے لایا ہوں جو تالاب میں لگا رکھا ہے۔‘

غلام عباس جس شہر میں بھی رہے کتابوں سے ان کا شغف برقرار رہا۔ ان کے اس شوق کی طویل مسافت کا پہلا پڑاؤ لاہور تھا اس لیے اس کے تذکرے پر ہم کتابوں سے عشق کا فسانہ غلام عباس سمیٹتے ہیں۔

اندرون شہر کی گلیوں اور بازاروں میں ان کے بچپن اور جوانی کا زمانہ گزرا تھا۔ ادبی ریاضت کے اس زمانے میں کتابوں سے ان کی وابستگی کا احوال میرزا ادیب نے ’مٹی کا دیا‘ میں بیان کیا ہے جس سے پہلے ان کا یہ بیان ملاحظہ ہو:

’یہ قیامِ پاکستان سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں اگر کوئی شخص پانی والے تالاب سے ہٹ کر ہیرامنڈی کی طرف رخ کر کے تھوڑا سا فاصلہ طے کرتا تو اسے دو طرفہ کئی ایسی دکانیں نظر آ جاتیں جن میں پرانی کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔‘

پرانی کتابوں کی ان دکانوں میں میرزا ادیب کو اکثر ایک لڑکا نظر آتا جسے کبھی کبھار وہ کتابیں اٹھائے اس رستے پر پیدل جاتے بھی دیکھا کرتے، جہاں گیٹی تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ اس رستے پر ایک دن غلام عباس سے تانگہ ٹکرایا تو کتابیں ہاتھ سے گر کر سڑک پر جا پڑیں۔ انہوں نے کوچوان سے الجھنے کے بجائے کتابیں سمیٹنے پر دھیان دیا۔ کتابیں دسترس میں آنے پر انہیں تھڑے پر رکھ کر دایاں بازو سہلانے لگے۔ میرزا ادیب جو یہ سارا تماشا دیکھ رہے تھے، ان کی مدد کو آگے بڑھے اور بوجھ بانٹنے کے لیے کچھ کتابیں ان سے پکڑ لیں۔ دونوں میں گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو میرزا ادیب نے استفسار کیاکہ کیا وہ یہاں روزانہ آتے ہیں؟ تو جواب ملا: ’جی۔ جی۔ روزانہ تو نہیں، تیسرے چوتھے روز آ جاتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ان دکانوں سے ایسی ایسی کتابیں مل جاتی ہیں جو بڑی بڑی دکانوں میں بھی نہیں ہوتیں۔‘

غلام عباس نے میرزا ادیب کو اپنی ’فتوحات‘ کے بارے میں بتایا۔ چند دن پہلے استاد ہمدم کی دکان سے طلسم ہوش ربا کی سات جلدیں انہوں نے خریدی تھیں۔ کتابوں کے بارے میں باتیں کرتے کرتے دونوں ٹیکسالی گیٹ میں عزیز تھیٹر کے قریب پہنچے تو غلام عباس نے میرزا ادیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے کتابیں لے لیں تو انہوں نے کہا کہ وہ گھر تک پہنچا آتے ہیں تو جواب ملا، بس یہیں میرا گھر ہے۔

’اور وہ کتابیں لے کر چلا گیا‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp