انتخابی کامیابی کے بعد مغربی بنگال میں بی جے پی کے مخالفین پر حملے، 4 افراد ہلاک

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابی کے بعد سیاسی ہنگاموں میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی نے مشرقی ریاست مغربی بنگال میں پہلی بار تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 294 رکنی اسمبلی میں 206 نشستیں جیت لیں۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی بنگال: 15 سال بعد شکست، وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کا استعفیٰ دینے سے انکار

تقریباً 10 کروڑ آبادی والی اس اہم ریاست کے انتخابی نتائج منگل کو جاری کیے گئے۔

مغربی بنگال پر 2011 سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکمران تھی، وزیر اعظم مودی کی سخت ناقد سمجھی جانیوالی ممتا بنرجی خود بھی اپنی نشست ہار گئی ہیں۔

ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، انہوں نے بی جے پی کی کامیابی کو ’غیر اخلاقی فتح‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستیں لوٹی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد ریاستی دارالحکومت کولکتہ سمیت مختلف اضلاع میں مخالف سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کے 2 کارکن مارے گئے، جبکہ ٹی ایم سی نے بھی اپنے 2 کارکنوں کے قتل کا دعویٰ کیا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی رہنما سمک بھٹاچاریہ کے مطابق انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پیر کو ان کے 2 کارکن قتل کر دیے گئے۔

دوسری جانب ٹی ایم سی کے ترجمان نریندرناتھ چکرورتی نے الزام لگایا کہ ریاست بھر میں ان کی جماعت کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے 2 افراد نچلی سطح کے سیاسی کارکن تھے۔

مزید پڑھیں: انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ایک سینئر پولیس افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، تصدیق کی کہ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ میں گولی بھی لگی۔

ٹی ایم سی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے ان کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔

کولکتہ پولیس کے مطابق ٹوپسیا اور تلجالا کے علاقوں میں قانون و نظم کی صورتحال خراب ہوئی جہاں شرپسند عناصر نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

انتخابی نتائج کے بعد ممتا بنرجی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے، ان کی مدتِ اقتدار جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

بھارتی آئین کے مطابق ریاستی گورنر ان سے استعفیٰ طلب کر سکتے ہیں یا ان کی مدت ختم ہونے تک انتظار کر سکتے ہیں۔

جس کے بعد نئی اسمبلی کے ارکان حلف اٹھائیں گے اور نئی حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا۔

ادھر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ریاستی حکام کو انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp