سعودی عرب کے صوبے نجران میں پھلوں کی کاشت غذائی تحفظ اور زرعی تنوع کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، جہاں معتدل آب و ہوا، زرخیز زمین اور وافر آبی وسائل زرعی پیداوار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔
یہ خطہ مختلف اقسام کے منفرد پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، جن میں سرخ امرود خاص طور پر ایک امید افزا اور معاشی طور پر منافع بخش فصل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے علاقے قصیم میں نجی عجائب گھروں کا مقامی تاریخی ورثے کی حفاظت میں اہم کردار
نجران میں سرخ امرود کے پیداواری درختوں کی تعداد تقریباً 7 ہزار بتائی جاتی ہے۔
نجران میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل مریح الشہرانی نے کہا ہے کہ خطہ زرعی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جو سعودی قیادت کی جانب سے زرعی شعبے کو دی جانے والی بھرپور حمایت کا عکاس ہے۔
گواوای سرخ در نجران.. سرمایهگذاری اقتصادی امیدبخش و آیندهای روشن.https://t.co/5zZbyVZD6X#عربستان_سعودى pic.twitter.com/qljBTp7p35
— واس فارسى (@spa_persian) May 6, 2026
انہوں نے کہا کہ سرخ امرود نجران کی زرعی پیداوار کی ایک نمایاں پہچان بن چکا ہے اور مقامی کسانوں نے زمین اور موسمی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ معیار کا پھل پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مریح الشہرانی کے مطابق وزارت ایسے امید افزا زرعی منصوبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور کسانوں کو تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ان فصلوں کی پیداوار میں مزید اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: کیا کوہاٹ کا منفرد ذائقے والا امرود درختوں سے غائب ہوجائے گا؟
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ اور خود کفالت کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ زرعی اور فوڈ پروسیسنگ صنعتوں میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مریح الشہرانی نے نجران بھر کے فارموں میں حاصل ہونے والی جدید اور اعلیٰ پیداواری سطح پر اطمینان اور فخر کا اظہار بھی کیا۔














