نجران میں سرخ امرود کے 7 ہزار درخت، سعودی زرعی ترقی کی نئی مثال

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے صوبے نجران میں پھلوں کی کاشت غذائی تحفظ اور زرعی تنوع کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، جہاں معتدل آب و ہوا، زرخیز زمین اور وافر آبی وسائل زرعی پیداوار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔

یہ خطہ مختلف اقسام کے منفرد پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، جن میں سرخ امرود خاص طور پر ایک امید افزا اور معاشی طور پر منافع بخش فصل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے علاقے قصیم میں نجی عجائب گھروں کا مقامی تاریخی ورثے کی حفاظت میں اہم کردار

نجران میں سرخ امرود کے پیداواری درختوں کی تعداد تقریباً 7 ہزار بتائی جاتی ہے۔

نجران میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل مریح الشہرانی نے کہا ہے کہ خطہ زرعی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جو سعودی قیادت کی جانب سے زرعی شعبے کو دی جانے والی بھرپور حمایت کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرخ امرود نجران کی زرعی پیداوار کی ایک نمایاں پہچان بن چکا ہے اور مقامی کسانوں نے زمین اور موسمی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ معیار کا پھل پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

مریح الشہرانی کے مطابق وزارت ایسے امید افزا زرعی منصوبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور کسانوں کو تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ان فصلوں کی پیداوار میں مزید اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کیا کوہاٹ کا منفرد ذائقے والا امرود درختوں سے غائب ہوجائے گا؟

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ اور خود کفالت کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ زرعی اور فوڈ پروسیسنگ صنعتوں میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مریح الشہرانی نے نجران بھر کے فارموں میں حاصل ہونے والی جدید اور اعلیٰ پیداواری سطح پر اطمینان اور فخر کا اظہار بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp