سپریم کورٹ نے قتل اور حملے کے مقدمے میں سابق رکن سندھ اسمبلی میر شہریار خان شر اور ان کے بیٹے جہانگیر خان شر کی ضمانت کنفرم کردی۔
ملزمان پر سندھ اسمبلی کے رکن جام مہتاب ڈاہر پر حملے کا الزام تھا، جس میں ایک شخص کے قتل اور 2 افراد کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ فعال، ایک ہی روز میں 122 مقدمات نمٹا دیے گئے
کیس کی سماعت جسٹس شاید وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
دوران سماعت ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کی شکایت کنندہ کے ساتھ سیاسی مخالفت ہے اور ملزمان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: غیر حاضری کو چھٹی میں تبدیل کرنے کے بعد ملازم کو برطرف کیا جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم سوال
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ یہ حیران کن بات ہے کہ شکایت کنندہ کو خراش تک نہیں آئی۔
جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مقدمے کو سمجھنے کے لیے اس کی تفصیلات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
عدالت عظمیٰ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد میر شہریار خان شر اور ان کے بیٹے جہانگیر خان شر کی ضمانت کنفرم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔














