شام سے واپس آنے والی داعش سے منسلک 3 خواتین آسٹریلیا میں گرفتار

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شام میں شدت پسند تنظیم ‘داعش’ سے منسلک کیمپوں میں کئی برس گزارنے کے بعد آسٹریلیا واپس آنے والی 3 خواتین کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گرفتار خواتین میں 53 سالہ کوثر عباس، 31 سالہ زینب احمد اور 32 سالہ جنائی صفار شامل ہیں۔ کوثر عباس اور زینب احمد کو میلبورن ایئرپورٹ جبکہ جنائی صفار کو سڈنی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔ ان کے ساتھ مجموعی طور پر 9 بچے بھی آسٹریلیا پہنچے، تاہم ایک خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا نے اسرائیل کے لیے شام میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ کام کیا، امریکی ادارے کے سابق سربراہ کا انکشاف

آسٹریلوی حکام کے مطابق بچوں کی نفسیاتی معاونت کی جائے گی اور یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا وہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

یہ خواتین 2019 سے شام کے الروج کیمپ میں مقیم تھیں، جہاں داعش کے خاتمے کے بعد ہزاروں غیر ملکی خواتین اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ان کیمپوں میں حالات انتہائی خراب اور جان لیوا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کوثر عباس کے شوہر محمد احمد پر الزام تھا کہ وہ ایک فلاحی ادارے کے ذریعے داعش کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

جنائی صفار 2015 میں شام گئی تھیں اور مبینہ طور پر ایک داعش جنگجو سے شادی کی تھی۔ انہوں نے 2019 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں آسٹریلیا واپسی پر گرفتاری اور اپنے بچے سے علیحدگی کا خوف تھا۔

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین پر دہشت گردی، ممنوعہ علاقوں میں قیام اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp