مدارس کی بندش سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، معاملہ اتفاقِ رائے سے حل کریں گے: وزیراعلیٰ بلوچستان

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا تالہ بندی کا نہ تو کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے، اس حوالے سے محض غلط فہمیاں پھیلائی گئیں، یہ بات انہوں نے جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

یہ بھی پڑھیں: مدارس کے معاملے پر بلوچستان حکومت اور جے یو آئی میں برف پگھل گئی، احتجاج 20 مئی تک مؤخر

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس ہمارے معاشرے کا ناگزیر حصہ ہیں اور حکومت انہیں دل کے قریب سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

 سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ ’مدارس رجسٹریشن ایکٹ‘ اب بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونا ہے، جس کے حوالے سے جمعیت کی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور مولانا عبدالواسع نے اس ضمن میں اپنے مطالبات سامنے رکھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مدارس کے خلاف کارروائی کا معاملہ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھیوں نے مولانا عبدالواسع سے 10 دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر اپنی پارٹی قیادت کو مکمل اعتماد میں لیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان اسمبلی میں تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جائے گی اور یہ مسئلہ انشاء اللہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے جے یو آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جانب سے ملنے والی عزت اور شفقت کے مشکور ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp