بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز شپ ایم وی ہونڈیئس پر ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ جہاز اس وقت کینری آئی لینڈز کی طرف روانہ ہے جہاں پہنچنے کے بعد تمام مسافروں کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بحرِ اوقیانوس میں کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا شبہ، 3 مسافر ہلاک
رپورٹس کے مطابق جہاز پر اب تک 3 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ افراد میں ایک ڈچ خاتون انتقال کر چکی ہیں، ایک برطانوی مسافر جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت میں ہے اور ایک سوئس شہری زیورخ کے اسپتال میں زیر علاج ہے۔
اس کے علاوہ ایک برطانوی مرد، ایک ڈچ عملے کا رکن اور ایک جرمن شہری مشتبہ کیسز میں شامل ہیں۔ کچھ افراد کو علاج کے لیے نیدرلینڈز منتقل کیا جا چکا ہےجبکہ دیگر کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 146 افراد اب بھی جہاز پر موجود ہیں۔
ہنٹا وائرس کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس دراصل وائرسز کا ایک خاندان ہے نہ کہ ایک واحد بیماری۔ یہ عام طور پر چوہوں اور دیگر روڈنٹس (چوہے نما جانور) کے خصوصاً پیشاب، فضلے یا لعاب کے خشک ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے ۔
مزید پڑھیے: بھارت میں نیپاہ وائرس کا سایہ اور ٹی20 ورلڈ کپ
یہ وائرس سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے جب آلودہ ذرات ہوا میں شامل ہو کر انسان تک پہنچیں۔ بعض صورتوں میں یہ چوہے کے کاٹنے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
انسانوں میں منتقلی
عام طور پر یہ وائرس انسان سے انسان میں نہیں پھیلتا تاہم اس کی ایک خاص قسم اینڈیز اسٹرین کے بارے میں شواہد موجود ہیں کہ یہ انتہائی قریبی رابطے میں کبھی کبھار منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ کیسز زیادہ تر ارجنٹینا اور چلی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
علامات
ہنٹا وائرس 2 بڑی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے جن میں ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم بخار (تھکن، پٹھوں میں درد کے بعد شدید سانس کی تکلیف) اور ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (فلو جیسی علامات سے شروع ہو کر گردوں کی خرابی اور اندرونی خون بہنے تک جا سکتی ہے) شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: آپ ڈینگی، ہیپاٹائٹس سی، چیچک اور ایڈز وائرس کو مانتے ہیں، تو پھر۔۔۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات بعض صورتوں میں 20 سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

علاج اور احتیاط
اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں تاہم بروقت طبی امداد، آکسیجن، وینٹی لیٹر اور انتہائی نگہداشت مریض کی جان بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
شرح اموات
ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد کو الگ رکھنا، صفائی کا خیال رکھنا، ہاتھ دھونا اور قریبی رابطوں کی نگرانی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم اقدامات ہیں۔
عالمی خطرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال عام آبادی کے لیے اس وائرس کا خطرہ بہت کم ہے اور اب تک اس کے کروز شپ سے باہر پھیلنے کے شواہد نہیں ملے۔
زیادہ احتیاط کہاں کی جائے؟
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی ماحول میں سفر اور وائلڈ لائف علاقوں کے دوران ایسے وائرسز سے احتیاط انتہائی ضروری ہے۔














