امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے۔
לאף מחבל אין חסינות. כל מי שמאיים על מדינת ישראל – דמו בראשו. pic.twitter.com/EbhbjVuEdi
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) May 7, 2026
نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔
یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔
Lebanon’s Ministry of Health announced that the death toll from the expanded Israeli aggression has risen to more than 2,700 people killed and 8,311 wounded since March 2, 2026.https://t.co/Y0duOlWAao
— Al Mayadeen English (@MayadeenEnglish) May 5, 2026
ایک علیحدہ واقعے میں حماس نے تصدیق کی ہے کہ ان کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے، 23 سالہ عزام خلیل الحیہ، غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد شہید گئے ہیں۔ خلیل الحیہ کے 7 بیٹوں میں سے یہ چوتھے بیٹے ہیں جو اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
حماس کے مطابق خلیل الحیہ کے ایک اور بیٹے ہمام ستمبر میں دوحہ میں ایک اسرائیلی حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ خلیل الحیہ اس وقت قطر میں مقیم ہیں اور حماس کی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔














