بالی ووڈ میں اپنی ڈانس پرفارمنسز کے لیے مشہور کینیڈین اداکارہ اور رقاصہ نورا فتحی کو متنازع گانے پر معافی مانگنے کے باوجود سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں بعض صارفین نے ان سے بھارت چھوڑنے کا مطالبہ بھی کردیا۔
34 سالہ نورا فتحی حال ہی میں نیشنل کمیشن فار ویمن کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے فلم کے ڈی: دی ڈیول کے گانے ‘سرکے چنر’ کے ہندی ورژن پر اٹھنے والے تنازع پر وضاحت دی۔ گانے کے بول اور مناظر کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ‘فحش’ اور خواتین کی نامناسب عکاسی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: نورا فتحی نے بالی ووڈ کے شادی شدہ جوڑوں کے راز کھول دیے
دہلی میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نورا فتحی نے کہا، ‘میرا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن بطور فنکار مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، اسی لیے میں نے تحریری طور پر معذرت کرلی ہے۔’
اداکارہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تنازع کے بعد یتیم بچیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کو واپس دینا ضروری ہے، اسی لیے انہوں نے چند یتیم لڑکیوں کی تعلیم کی کفالت کا فیصلہ کیا۔
تاہم معافی کے باوجود سوشل میڈیا پر ان کے خلاف غم و غصہ برقرار رہا۔ متعدد صارفین نے انسٹاگرام پر تبصرے کرتے ہوئے انہیں ‘بھارت چھوڑنے’ کا مشورہ دیا جبکہ بعض نے ان پر ‘فحاشی پھیلانے’ کے الزامات بھی عائد کیے۔
یہ بھی پڑھیے: فٹبال میچ میں شرکت کے بعد نورا فتیحی کی اشرف حکیمی کے ساتھ تعلقات کی افواہیں زور پکڑ گئیں
اس سے قبل فلم میں نورا فتحی کے ساتھ کام کرنے والے اداکار سنجے دت بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوچکے ہیں اور انہوں نے بھی گانے پر معذرت کرتے ہوئے 50 قبائلی بچیوں کی تعلیم میں تعاون کا اعلان کیا تھا۔














