امریکا کی زیر حراست پاکستانی و ایرانی عملے کی واپسی کے لیے پاکستان کے بین الاقوامی رابطے

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اور ایرانی سمندری عملے کی محفوظ واپسی کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صومالی قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں، متاثرہ خاندانوں کی دہائی، حکومت کی سفارتی کوششیں تیز

ٹوئٹر (ایکس) پر جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے گفتگو کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ امریکی حکام کے زیر حراست بحری جہازوں پر موجود 11 پاکستانی اور 20 ایرانی سمندری اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور وطن واپسی میں تعاون کریں، جو اس وقت سنگاپور کے قریب پانیوں میں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسی معاملے پر ایرانی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ قریبی رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے بھی پاکستان کے راستے ایران جانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنگاپور کی جانب سے تعاون کو سراہا گیا ہے جبکہ پاکستان اپنی وزارت خارجہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے امریکی حکام سمیت دیگر فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تمام افراد کی حفاظت، فلاح اور جلد از جلد واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے